اسلام آبادمیں سگنلز پر نصب پیلیکن کراسنگ سسٹم کیا ہے؟

وفاقی دارالحکومت میں راہ گیروں کی سہولت کے لیے جدید پیلیکن کراسنگ نظام نے کام شروع کردیا۔ یہ جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سڑک حادثات کو کم کرنے، پیدل چلنے والوں کی حفاظت اور دارالحکومت کو بین الاقوامی روڈ سیفٹی معیار کے قریب لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔بڑھتی ٹریفک میں حادثات کے پیش نظر اسلام آباد میں محفوظ روڈ کراسنگ کی ضرورت ناگزیر تھی۔

پیلیکن کراسنگ سگنل کے زیر کنٹرول کام کرتی ہے جو پیدل چلنے والوں کو ٹریفک محفوظ طریقے سے روکنے اور ٹریفک لائٹس کا استعمال کرتے ہوئے سڑک پار کرنے کی سہولت ہے ۔ لفظ ”پیلیکن”کا مطلب پیڈسٹرین لائٹ کنٹرولڈ کراسنگ ہے۔یہ کراسنگ ترقی یافتہ ممالک جیسے برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ اسلام آباد اب پاکستان کا پہلا شہر ہے جس نے باضابطہ طور پر  اس نظام کو متعارف کرایا ہے۔

حکام نے پیلیکن کراسنگ متعارف کرانے کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔ ان میںمصروف سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کو پیش آنے والے حادثات میں اضافہ،اہم چوراہوں پر محفوظ زیبرا کراسنگ کا فقدان،پیدل چلنے والوں کے دائیں راستے کے قوانین پر عدم عملدرآمد، بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کا دبائو اورسڑک پر حفاظت کے  بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔اس کا مقصد مہلک حادثات کو کم کرنا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگ شہریوں، اور دفتری ملازمین جو روزانہ مصروف سڑکوں کو عبور کرتے ہیں۔
اسلام آباد کی پیلیکن کراسنگ کا کام کرنے کا طریقہ کار سادہ اور صارف دوست ہے۔

راہگیرکراسنگ کا مخصوص بٹن دباتا ہے تو ٹریفک لائٹس سبز سے زرد اور پھر سرخ ہوجاتی ہیں۔ گاڑیاں رک جاتی ہیں اورپیدل چلنے والوں کا سگنل سبز ہو جاتا ہے۔پیدل چلنے والے ایک مقررہ وقت کے اندر محفوظ طریقے سے گزر جاتے ہیں۔کراسنگ کا وقفہ ختم ہونے کے بعد ٹریفک دوبارہ چل پڑتی ہے۔

اسلام آباد کی پیلیکن کراسنگ جن حفاظتی خصوصیات پر مشتمل ہے ان میں  پیدل چلنے والوں کے لیے کنٹرول سسٹم کا پش بٹن، رات کے لیے الگ اشارے،ٹائمر پر مبنی کراسنگ کا دورانیہ شامل ہے۔

اسلام آباد میں پہلی پیلیکن کراسنگ زیادہ ٹریفک اور زیادہ رش والی سڑکوں پر نصب کی گئی ہیں، بشمول تجارتی علاقوں کے قریب اہم راستے،تعلیمی اداروں کے قریب سڑکیں،مصروف دفتری زون کے علاوہ ہسپتالوں اور عوامی سہولیات کے قریبی علاقے۔

حکام نے بتایا ہے کہ عوامی ردعمل اور ٹریفک کے بہا ئوکی نگرانی کے بعد مرحلہ وار مزید مقامات کا اضافہ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔