عمران خان کا ذاتی مفاد کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں،خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا اپنی ذات کے علاوہ کوئی واضح سیاسی ایجنڈا نہیں۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے نیت اور دیانت داری بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی کے مؤقف میں تضاد نظر آ رہا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے اشارے دیے جاتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مفاہمت اور بات چیت کے لیے ایجنڈا کون طے کرے گا، یہ ایک اہم سوال ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کسی قسم کی ضمانت دینے کو بھی کوئی تیار نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی جماعت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تو وہ اس کی مخالفت میں آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے ذریعے کسی پیش رفت کا امکان نظر نہیں آتا۔

وزیر دفاع نے محمود خان اچکزئی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بڑے اعتماد سے گفتگو کر رہے ہیں، آئندہ اجلاس میں ان سے پوچھیں گے کہ یہ اعتماد کس بنیاد پر ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق گزشتہ دو برس سے وفاق پر حملے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور ایسے ماحول میں مذاکرات کا کوئی واضح آغاز دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی فضا کو بہتر بنانا ہے تو تشدد اور وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی دھمکیاں ختم کرنا ہوں گی۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے جوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی رہنما ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نہیں گیا۔ ان کے مطابق جو لوگ شہداء کے خون کے ساتھ کھڑے نہیں، ان سے مذاکرات ممکن نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے 9 مئی کے واقعات کی اب تک کھل کر مذمت نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کی معذرت سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اکسانے والے افراد آج بھی اسمبلیوں میں موجود ہیں۔

وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پی ٹی آئی کا مؤقف واضح نہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کا رویہ حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔