کو ن بنے گااگلا ہدف؟وینزویلا کے بعدٹرمپ کے’’مینیو‘‘پر ایک نظر

جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا پر امریکی کمانڈوزکاحملہ براہ راست یہ سوالات پیداکرچکاہے کہ تیل کی مارکیٹ پر اس واقعے کا کیا اثرپڑے گا اور یہ کہ،برطانوی اخبار ’’ گارجین ‘‘ کے بقول ٹرمپ کے’’ مینیو‘‘ میں مزید کیا ہے۔جیسے ایران، لاطینی امریکہ کے کچھ اورملک ، ناروے کا گرین لینڈاور پاناما کینال کو واپس لینے کا بیانیہ ۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا میں امریکی کارروائی سے توانائی کی منڈیوں کو جلد کوئی دھچکاپہنچنے کا امکان نہیں ۔ تیل کی عالمی منڈی میں اس وقت ضرورت سے زیادہ سپلائی ہے اور طلب نسبتاً کمزور۔وقتی طورپربھی قیمتوں میں کوئی زیادہ اضافہ متوقع نہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت بہت زیادہ تیل موجود ہے۔وینزویلا، جو اوپیک کا بانی رکن ہے، دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ثابت شدہ ذخائر رکھتا ہے۔ لیکن یہ ریاست فی الحال ایک ملین بیرل سے کم تیل بیرل پیدا کرتی ہے، جو کہ عالمی تیل کی پیداوار کا 1 فی صد سے بھی کم ہے۔

جہاں تک درمیانی یا طویل مدت کا تعلق ہے تو غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ آیا امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں سرمایہ کاری کریں گی۔، اوباما انتظامیہ میں محکمہ خارجہ کے توانائی کے سابق اعلیٰ اہلکارڈیوڈ گولڈ وین کے مطابق کوئی بھی کمپنی طویل مدتی آپریشن کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گی جب تک یہ نہ جان لے کہ شرائط وضوابط کیا ہیں۔ اوریہ بات وہ اس وقت تک نہیں جان سکتے جب تک یہ معلوم نہ ہوکہ وہاں کی حکومت کیا ہونے جا رہی ہے۔عراق، لیبیا وغیرہ میں امریکی مداخلت کے بعد حالات مستحکم نہیں رہے تھے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی تیل کی بڑی کمپنیاں اس ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جس کا ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے،پھربھی وینزویلا میں برسوں تک خام پیداوار میں کوئی معنی خیز اضافہ دیکھنے کا امکان نہیں۔

 

ٹرمپ کی وینزویلا میں کارروائی کے بعد جنوبی امریکی براعظم کے کچھ ملک ایسے ہیں جن کی خودمختاری کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ ان میں کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا سرفہرست ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے نے لکھاہے کہ امریکہ خود تیل پیداکرنے والا بڑا ملک ہے ،لیکن اس کی دلچسپی دراصل تیل کی قسم سے ہے۔ امریکہ میں ہلکا کروڈ آئل پیداہوتاہے ، وینزویلا میں بھاری کروڈ آئل ہے جو امریکی ریفائنریوں کے لیے موزوں ہے۔ میکسیکومیں بھی بھاری کروڈ آئل موجودہے۔

 

جریدہ ’’ ٹائم ‘‘ کے مطابق وینزویلا میں آپریشن کے چند گھنٹوں بعدٹرمپ نے دیگر جنوبی امریکی ملکوں کے حوالے سے بھی اپنے عزائم کا اشارہ دیا۔ فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران، ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ میکسیکو کے بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ(کولمبیا کی) صدر کلاڈیا شین بام سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ملک میں منشیات کے کارٹلز سے نمٹنے میں مدد چاہتی ہیں۔کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو، پر بھی ٹرمپ منشیات کی تیاری میں ملوث ہونے کا الزام لگاچکے ہیں۔اسی طرح کمیونسٹ کیوبا کے لیے بھی اب ایسا خطرہ موجود ہے۔

 

ٹرمپ نے وینزویلا حملے کے بعد پریس کانفرنس میں اسے ایک ناکام ریاست قرار دیا۔ جنوبی کیرولائنا کے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس بارے میں زیادہ واضح با ت کہی ۔لنڈسے کا کہناتھاکہ امید ہے اب ہم کیوبا پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ٹرمپ کے علاوہ ان کے وزیرخارجہ نے بھی کیوبا کو انتباہ دیا۔
اقوام متحدہ نے امریکی حملے کو خطرناک نظیرقراردیتے ہوئے کہا کہ یواین چارٹر سمیت عالمی قوانین اور اصولوں کااحترام ضروری ہے۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر وینزویلا کے ذریعے دوسروے ملکوں کے لیے بھی ایساہی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اوربھی رہنماخود کو مسٹر مادورو جیسی صورتحال میں پائیں گے۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی کامیاب آپریشن ہر اس شخص کے لیے وارننگ ہےجو امریکی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے۔انہوں نے خاص طور پر کیوبا اور کولمبیا دونوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں ہوانا میں رہتا اور حکومت میں ہوتا تو مجھے فکر ہوتی، اور کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کو اپنی کرسی پر نظر رکھنا چاہیے۔

 

لاطینی امریکہ میں برازیل ، میکسیکو، اور کولمبیا تیل کی پیداوار کے بڑے ملکوں میں سے ہیں۔میکسیکو دنیا کا 12واں بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے۔کولمبیا خطے میں تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔
وینزویلا کی سرزمین پر حملے اور اس کے صدر کی گرفتاری کو ،برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلو نے ایک ناقابل قبول لائن کو عبور کرنے سے تعبیرکیا اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک انتہائی خطرناک نظیرقراردیا۔

 

ایران اور کیوبا نے امریکی ایکشن کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی، ان کے اعتراضات میں اس بے چینی کی جھلک نظرآتی ہے کہ وہ بھی واشنگٹن کا اگلاہدف ہوسکتے ہیں۔بالخصوص ایران کو امریکی صدر پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں ۔ٹرمپ نے ناروے کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کوخریدنے یا ’لے لینے‘ کابیان بھی دیاہواہے۔واضح رہے کہ گرین لینڈ معدنیات سے مالامال جزیرہ ہے۔

مبصرین یہ نکتہ بھی اٹھارہے ہیں کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اب نارکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تبدیل کردیاہے۔اب وہ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لیے اس دلیل کا استعمال کرسکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے یورپی اتحادیوں نے بھی، محتاط اور نپے تلے لہجے میں لب کشائی کرتے ہوئے وینزویلا میں آپریشن کی قانونی حیثیت پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔ یہ ردعمل ایسے اندیشوں کی نشان دہی کرتے ہیں جو امریکہ کے اتحادیوں اور مخالفین کو یکساں سوچنے پرمجبورکرتے ہیں کہ واشنگٹن اس کے بعد کہاں کارروائی کر سکتا ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہاکہ وہ بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ یورپی کمیشن کی صدرکا کہناتھاکہ وہ اقتدار کی پرامن اور جمہوری منتقلی کی حمایت کرتی ہیں، ،کسی بھی حل کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹرسے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول باروٹ نے کہا کہ وینزویلا میں فوجی آپریشن طاقت کے عدم استعمال کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔