میگزین رپورٹ :
چین کے آگے امریکی ٹیکنالوجی قدر کھونے لگی۔رائٹرز کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی دوڑ میں امریکی کمپنی ٹیسلا اپنی برتری برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی۔ جبکہ چینی کمپنی بی وائی ڈی نے رواں سال کے آغاز میں ہی عالمی مارکیٹ میں غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کی سالانہ فروخت میں مسلسل دوسرے سال بھی کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجوہات میں بڑھتا ہوا عالمی مقابلہ، امریکہ میں ملنے والی ٹیکس رعایت کا خاتمہ اور برانڈ کے حوالے سے صارفین کا بدلتا ہوا رویہ شامل ہیں۔
جہاں گزشتہ سال عالمی سطح پر برقی گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ ہوا، وہیں بی وائی ڈی نے یورپ میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے پہلی بار سالانہ بنیادوں پر ٹیسلا کو مات دے کر اس سے عالمی اعزاز چھین لیا ہے۔ امریکہ میں ای وی ٹیکس کریڈٹ کی سہولت ختم ہونے سے ٹیسلا کی مانگ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ستمبر میں وفاقی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کے بعد، اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی میں ٹیسلا کی ترسیل میں 15.6 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں ٹیسلا نے مجموعی طور پر 1.64 ملین گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 2024ء میں یہ تعداد 1.79 ملین تھی۔اس کے برعکس، چینی کمپنی بی وائی ڈی نے غیر معمولی نمو حاصل کرتے ہوئے سال 2025ء میں 2.26 ملین خالص برقی گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ 2024ء میں یہ تعداد 1.76 ملین تھی، یوں بی وائی ڈی نے پہلی بار سالانہ بنیادوں پر ٹیسلا کو پیچھے چھوڑدیا۔ اس تاریخی شکست کے بعد ٹیسلا کے سی ای ایلون مسک جس اے آئی اور روبوٹکس کے سہارے واپسی کا سوچ رہے ہیں، وہاں بھی چین پہلے سے مورچہ زن ہے۔
آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ASPI) کی رپورٹ کے مطابق، 64 میں سے 57 جدید ٹیکنالوجیز میں چین کو امریکہ پر برتری حاصل ہو چکی ہے۔ اگرچہ بنیادی اے آئی ماڈلز اور اسلحہ سازی میں امریکہ ابھی بھی آگے ہے، تاہم چین کی ان شعبوں میں ترقی رفتار ان شعبوں پر حاوی ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،چین نے مواصلات کی دنیا میں ایک بڑا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی پہلی 6G چپ متعارف کرائی ہے۔ یہ چپ 100 جی بی فی سیکنڈ (100 GB/s) سے زیادہ انٹرنیٹ کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ سولر پینل مینوفیکچرنگ اب چین کے پاس ہے۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے باوجود، چین نے اپنی مقامی چپس اور مائیکرو پروسیسرز کی تیاری میں حیرت انگیز رفتار دکھائی ہے۔ پینٹاگون کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، چین نے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے تقریباً ہر شعبے میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین کے پاس اب دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا ہے اور اس نے آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز (Hypersonic) میزائلوں کی تیاری میں بھی سبقت حاصل کر لی ہے۔
چین کی عالمی صنعتی پیداوار امریکہ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ جہاں امریکہ کی مینوفیکچرنگ کی مالیت تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر ہے، وہیں چین 4.7 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کا بلامقابلہ پاور ہاؤس بن چکا ہے۔2026ء میں چین کا چینگ ای 7 (Chang’e 7) مشن چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش کے لیے روانہ ہو رہا ہے، جو براہِ راست ناسا کے آرٹیمس (Artemis) پروگرام کو ٹکر دے رہا ہے۔
دوسری جانب چینی سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید اور ذہین الیکٹرومیگنیٹک سطح (Smart Electromagnetic Surface) تیار کی ہے جو فضا میں موجود برقی مقناطیسی لہروں کو براہ راست بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی الیکٹرومیگنیٹک انجینئرنگ اور مواصلاتی اصولوں کا ایک بہترین سنگ میل ہے، جو روایتی بیٹریوں کے بجائے ریڈار یا دیگر ماحولیاتی سگنلز سے توانائی حاصل کر کے خود کو فعال رکھتی ہے۔ محققین کے مطابق مستقبل کے اسٹیلتھ طیارے دشمن کے ریڈار سے بچنے کے بجائے انہی ریڈار شعاعوں کو توانائی اور مواصلات کے ذریعے کے طور پر استعمال کر سکیں گے، جسے لیکٹرومیگنیٹک کوآپریٹو اسٹیلتھ کا نام دیا گیا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos