نواز طاہر:
بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں پانچ سال سے زیر حراست مسلمان اسٹوڈنٹ لیڈر، سماجی و سیاسی رہنمائوں سید خالد عمر اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے جسے بھارت میں مسلم رہنمائوں اور پاکستان میں ہندو رہنمائوں نے بھی غیر منصفانہ اور ہندوتوا ایجنڈے کا تسلسل قراردیا ہے۔ یہ امر بھی سامنے آیا کہ مقدمے کے فیصلے کیلئے پانچ جنوری کے دن بھی خاص طور پر یومِ خود اردیت کی بنا پر چنا گیا تھا اور اس کا مقصد آزادی اور حقوق کی بات کرنے والوں پر ریاستی ہٹ دھرمی برقرار رکھنے اور دبائے رکھنے کا پیغام دیا گیا تھا۔ جبکہ ضمانت منظور نہ کیے جانے کے بارے میں مسلم کمیونٹی پہلے سے ہی تحفظات اور خدشات رکھتی تھی۔
یاد رہے کہ دہلی میں فسادات، مودی سرکار کی انتہا پسندانہ سوچ اور اقدامات کے دوراں سنہ دو ہزار بیس میں مسلم خواتین کے بارے میں امتیازی قانون کیخلاف احتجاج کو سبوتاژ کرنے کیلئے بی جے پی نے سیاسی اور انتہا پسندانہ عزائم کے حصول کیلئے کروائے تھے۔ لیکن سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل نہیںکر پائی تھی۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ دن گیارہ بجے کے قریب سنایا جس کے تحت سید خالد عمر اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی گئی۔ اپنے فیصلے میں قراردیا گیا کہ مقدمہ کے ٹرائل میں تاخیر کو ضمانت کیلئے ملزم کے حق میں ٹرمپ کارڈ کے طورپر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ دہلی فسادات میں مرکزی کردار ادا کرنے والے بی جے پی انتہا پسند رہنما کپل مشرا کو گرفتار تک نہیں کیا گیا اور مسلمان رہنمائوں کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور پانچ سال سے حراست میں رکھا ہے۔
سپریم کورٹ میں درخواست کے فیصلے کے وقت انتہا پسند ہندئوں کی بڑی تعداد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو سرکاری اور گودی میڈیا نے خاص طور پر مخصوص زاویوں کے ساتھ نشر کیا اور اسے حکومتی اداروں کی فتح سے تعبیر کیا۔ بھارت میں مسلم رہنمائوں کی طرف سے پہلے ہی توقع کی جارہی تھی کہ مودی سرکار کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ لیکن امریکی کانگریس کے رہنمائوں کے دبائو پیشِ نظر ایک امید تھی کہ انہیں ریلیف مل سکتا ہے۔ فیصلے کے بعد پاکستان میں اقلیتی برادری اور خاص طور پر ہندو کمیونٹی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر منصفانہ قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جارہا۔
ہندو کمیونٹی کی نمائندہ سیتا ملہوترا نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں لیکن ہم کر کیا سکتے ہیں۔ ہمارا وطن اور ملک تو پاکستان ہے۔ اگر یہاں کے ہندو یا دیگر اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ یہ نا انصافی ہوتی تو عوام ان کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے۔ جیسا کہ ہم جڑانوالہ واقعہ اس کی قریب ترین وقت کی روشن مثال ہے اور پوری دنیا گواہ ہے کہ اس میں مسلمان اکثریت نے اقلیت عسائیوں کو کس طرح سپورٹ کیا۔ بھارت تو پہلے ہی اقلیتوں کو دبا اور نقصان پہنچا کر خوش ہونا وطیرہ بنا چکا ہے۔ خاص طور پر مودی سرکار میں مسلمانوں سمیت کمزور اقلیتوں کو خصوصی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو صرف غلط اور غیر منصفانہ ہی کہہ سکتے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos