صرف ایک زرعی شعبے میں اربوں روپے کی بچت کیسے ہوسکتی ہے؟گارلگ ماڈل پیش

پاکستان نے صرف 2024 کے دوران چین سے لہسن کی درآمد پر تقریباً 52 ملین ڈالر یا تقریباًساڑھے 14 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر ساہیوال ڈویژن میں لہسن کی کاشت تجارتی پیمانے پر کی جائے تو یہ پوری رقم بچائی جا سکتی ہے، جہاں پہلے سے ہی مناسب مٹی اور آب و ہوا ہے اور یہ آلو کی کاشت کے لیے مشہور ہے۔

تجارتی حلقوں کے مطابق لہسن کی کاشت میں پاکستانی کسانوں کی سب سے بڑی رکاوٹ معیاری بیج کی بلندقیمت ہے۔ اس کے لیے تجویز پیش کی گئی ہےکہ حکومت ساہیوال ڈویژن میں چند یونین کونسلز کا انتخاب کرے اور فی ایکڑ 1 لاکھ روپے سے 2 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کرے۔ اس طرح کے تعاون کے بغیر، چھوٹے کسان نئی لیکن ممکنہ طور پر منافع بخش فصلوں کا تجربہ کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چین دنیا کا سب سے بڑا لہسن پیدا کرنے والا اور برآمد کنندہ ہے، جس کی سالانہ پیداوار 20 ملین ٹن سے زیادہ ہے اور اس کی پیداوار پاکستان کی اوسط سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان زرعی گریجویٹس کو خاص طور پر لہسن کی کاشت میں تربیت دے کر اور انہیں منتخب یونین کونسلوں میں کسانوں کی رہنمائی کے لیے تعینات کیا جائے۔
خام پیداوار سے آگے بڑھ کر ویلیو ایڈیشن کی ضرورت پربھی زور دیاگیاہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو لہسن کا پاؤڈر، پیسٹ، فلیکس اور تیل بنانے کی ترغیب دی جائے۔ ان پروسیسنگ یونٹوں کو نسبتاً کم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ شمسی توانائی کے ذریعے اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات پوری کر سکتے ہیں، جو نیم دیہی مقامات پر بھی قابل عمل ہیں۔ اس طرح کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات خام لہسن کی نسبت لمبی شیلف لائف اور بہتر برآمدی صلاحیت رکھتی ہیں۔ماہرین تجویزکرتے ہیں کہ اگر لہسن، پیاز اور مرچ جیسی فصلوں اور یہاں تک کہ مویشیوں کی مصنوعات جیسے گوشت اور ڈیری کے لیے زرعی پروسیسنگ کلسٹرز تیارکیے جائیں، تو ہم زرمبادلہ پیدا کر سکتے ہیں، دیہی روزگار مہیاکر سکتے ہیں اور شہروں کی طرف ہجرت کو کم کر سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔