راولپنڈی: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے واضح کرتےہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں جیتے ہوئے لوگوں کو ہرایا گیا اور اگر 8 فروری سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، مذاکرات اس پارلیمیٹ کی چھٹی کرنے کے لیے ہوں گے۔
تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے راولپنڈی میں فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کس چیز پر کرنے ہیں 8 فروری کو 25 کروڑ عوام کی رائے بدل دی گئی، جو جیتے ان کو ہرایا گیا اور جو ہارے ان کو جتایا گیا اور اگر 8 فروری سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہم مضبوط فوج چاہتے ہیں، جس طرح دنیا کے باقی ممالک کی افواج کام کرتی ہیں اسی طرح ہماری فوج بھی کام کرے، ہم بار بار کہہ رہے ہیں، یہ خطہ میدان جنگ بننے جا رہا ہے، کچھ دن پہلے ایک ملک کے سربراہ کو اس کی بیوی سمیت بیڈ روم سے اٹھایا گیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا تحفظ بھی اسی میں ہے آئین کے مطابق بات چیت کریں، بات چیت اس پر ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ بالا دست ہوگی، مذاکرات اس بات پر ہوں گے اس پارلیمنٹ کی چھٹی کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس بات پر ہوں گے کہ عبوری حکومت قائم کی جائے جو الیکشن کمشنر کی تعیناتی کرے گی اور الیکشن کروائے جائیں گے۔
اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ہم نے 8 فروری کو احتجاج کا اعلان کیا ہے، پورے پاکستان میں ہمارے ورکرز اپنے اپنے علاقوں میں آواز بلند کریں گے، ہم تاجروں، رکشے والوں اور ٹریڈ یونینز کو احتجاج میں شریک کریں گے۔
عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں یہاں آتی ہیں تو کون سا آسمان گر پڑتا ہے، ملاقاتوں کے حوالے سے عدالتی احکامات ہیں پھر بھی واٹر کینن چلائے جارہے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos