پاکستان میں بڑھتی سیاسی کشیدگی اور پی ٹی آئی کی ممکنہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے ’’پانچ بڑوں‘‘ کے درمیان مذاکرات کی تجویز سامنے آئی ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تجویز پر عمل درآمد کے امکانات نہایت محدود دکھائی دیتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق ان پانچ اہم اسٹیک ہولڈرز میں وزیرِاعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ایک ’’پانچواں‘‘ فریق شامل ہے جس کا نام لیے بغیر اشارہ عسکری قیادت کی طرف سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے بیان کو سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعلیٰ سطحی مکالمے کی دعوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماضی میں ایسی کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ فریقین کی نشاندہی نہیں بلکہ انہیں ایک میز پر بٹھانا ہے۔ سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اس تجویز کو موجودہ حالات میں ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں سنجیدہ مذاکرات کی خواہش نظر نہیں آتی، یہی اصل رکاوٹ ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق رانا ثنا اللہ کی بات میں عملی حکمتِ عملی کا فقدان ہے اور مکالمے کا آغاز کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں اپوزیشن قیادت کو اعتماد میں لینا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان تک رسائی دینا ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر مذاکرات محض علامتی رہیں گے۔
سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مکالمہ مشکل ہے کیونکہ سیاسی اختلافات اور بداعتمادی بہت گہری ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اعتماد سازی یک طرفہ نہیں ہو سکتی اور جس طرح حکومت مطالبات کر رہی ہے، اسی طرح پی ٹی آئی کے بھی اپنے مطالبات ہیں، جن پر کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتا ناگزیر ہے۔
اس بحث میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہوئی جب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اعتماد سازی اس وقت ممکن ہو گی جب سوشل میڈیا پر فوج اور قیادت کے خلاف مبینہ نفرت انگیز مہم چلانے والے اکاؤنٹس بند کیے جائیں۔ مظہر عباس کے مطابق ایسے نکات مذاکرات کے دوران زیرِ بحث آ سکتے ہیں، مگر انہیں پیشگی شرط بنانا بات چیت کے دروازے مزید بند کر دیتا ہے۔
ادھر نواز شریف کے ممکنہ کردار پر بھی گفتگو ہو رہی ہے، خاص طور پر محمود خان اچکزئی کی جانب سے اس سمت اشارے کے بعد۔ مظہر عباس کے مطابق اچکزئی کے نواز شریف سے براہِ راست روابط ہیں اور وہ کسی حد تک رابطہ کاری کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم حسن عسکری کے نزدیک اس پر بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اصل فیصلہ کن فریق وزیرِاعظم، عسکری قیادت اور عمران خان ہیں، اور ان تینوں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے کردار پر بھی شکوک موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر اس معاملے میں خودمختار حیثیت نہیں رکھتے اور ان کی کسی بھی سرگرمی کا دارومدار وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پر ہو گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی، افغانستان اور دہشت گردی سے متعلق معاملات پر سخت مؤقف برقرار ہے، جس سے فوری لچک کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک تمام فریق تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح نہیں دیتے اور باہمی رعایتوں پر آمادہ نہیں ہوتے، پاکستان کی سیاست اسی طرح جمود کا شکار رہے گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos