فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اعلامیے میں 5میں سے3 بڑوں کے نام شامل، پورے ملک کی رہائی پر زور

اسلام آباد:پاکستان میں سیاسی مکالمے کیلئے تازہ تازہ بننے والی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے 5 میں سے 3 بڑوں کے نام اپنے اعلامیے میں شامل کرلیے,عمران خان کی رہائی کے بجائے پورے ملک کی رہائی پر زور دیا گیا۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام نیشنل کانفرنس بدھ کو اسلام آباد میں ہوئی  ،پی ٹی آئی نے اس کانفرنس کا بڑی حد تک بائیکاٹ کیا لیکن اس سے وابستہ رہنے والے کئی رہنما شریک ہوئے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی،جماعتِ اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ،شیر افضل مروت،بیرسٹر سیف،عمران اسماعیل اور پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر شہزاد وسیم نے شرکت کی۔کانفرنس میں سینئر صحافی کاشف عباسی،حفیظ اللہ نیازی اور اطہر کاظمی بھی موجود تھے۔

کانفرنس میں ملک کے موجودہ سیاسی بحران، مذاکراتی عمل اور قومی اتفاقِ رائے پر تفصیلی گفتگو کی گئی،شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش سیاسی، جمہوری اور سیکیورٹی چیلنجز کا حل صرف بامعنی مذاکرات اور مشترکہ قومی بیانیے سے ہی ممکن ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ صدرِآصف علی زرداری ، نواز شریف اور وزیرِ اعظم شہباز شریف پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی،جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گی۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کی جائے، جبکہ خواتین سیاسی کارکنوں کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کے عمل کا اعتماد بحال ہوگا،میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیشنل ڈائیلاگ کے ذریعے بات چیت کا عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محب وطن لوگوں کا یہ حال نہیں جو اج ہمارا ہیں اس ملک پر اشرایفہ کا قبضہ ہیں،طنز انداز میں کہا فواد چوہدری مجھے کوٹ لکھپت لے جانا چاہتے ہیں،لیکن مسائل کا حل کوٹ لکھپت یا اڈیالہ جیل میں نہیں۔ملک کے مسائل کے حل کیلئے فوج، سیاستدانوں اور عدلیہ کو آمنے سامنے بیٹھنا ہوگا۔

نینشل ڈائیلاگ سے سابق صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ رہائی ضروری ہونے چاہیے مگر اصل موضوع عمران خان کی رہائی کے بعد کے معاملات کا ہے۔مخالفین کو خوف ہے کہ عمران خان باہر آ کر نہ جانے کیا کریں گے۔اسی معاملے کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے،اگر مخالفین کا خوف ختم کر دیا جائے تو مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ یہ مسئلہ عمران خان کی رہائی کا نہیں بلکہ ملک کی رہائی کا مسئلہ ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کے ذریعے بات چیت کا عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رکھا جائے گا، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے مطابق آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔