پنجاب میں گھروں پرعلاج کی سہولیات فراہم کرنے کاپروگرام شروع

پنجاب میں کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام لانچ کردیاگیا۔ پنجاب ہاکی سٹیڈیم میں صوبے بھر سے 55ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزنے تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلی مریم نوازشریف کی آمد پر کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر زنے جوش وخروش نعرے لگائے، وزیراعلیٰ نے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔

مریم نوازشریف نے پراجیکٹ کا ڈیجیٹل افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی ٰ نے کہا کہ مائیں،بہنیں،بیٹیاں میدان عمل میں نکل آئیں تو پنجاب کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔مائیں،بہنیں،بیٹیاں پنجاب کی تقدیر بدل دیں گی۔پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو صوبے کا لینڈ سکیپ بدل سکتی ہے۔پنجاب کی بیٹی،پنجاب کی بہن اورپنجاب کی ماں ہمت اورحوصلے میں کسی سے کم نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب ری ایکشن نہیں بلکہ پروایکٹو گورننس پر یقین رکھتا ہے۔55ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز میدان عمل میں نکلیں گی تو پنجاب سے بیماریاں بھاگ جائیں گی۔حکومت اب انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود چل کر گھروں تک جائے گی۔ بیماری آجائے تو علاج کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے،ہم پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی ٰ نے کہا کہ پنجاب کی خواتین میدان عمل میں اپنا منفرد مقام پیدا کریں گی۔خواتین ترقی کے لئے بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایاکہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کا یونیفارم ڈیزائن کرنے میں خود دلچسپی لی، ٹول کٹ کی منظوری بھی خود دی۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پروگرام میں 25ہزار لوگوں کو جاب ملی،50ہزار تنخوا دے رہے ہیں۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کام کر کے دکھائیں تو تنخواہ بڑھائیں گے۔مجھے احساس ہے یہ بہنیں،بیٹیاں،گلی گلی جا کر محنت کریں گی تومعاوضہ بھی اچھا دینا ہوگا۔اس پراجیکٹ کے ذریعے ہر گھر کا ہیلتھ پروفائل تیار ہوگا،بیماریوں کا اندازہ ہوگا،ڈیجیٹل ٹیپ میں پورا ریکارڈ رکھا جائے گا۔اب قوم کی بیٹی خدمت کررہی ہیں،اس کی عزت سب پر فرض ہے۔کوئی بھی بیماری ہو اس کا چیک اپ کر کے علاج کیلئے متعلقہ ہسپتال بھیجا جائے گا۔وقت آگیا ہے حکومت کے پاس کسی کو نہ آنا پڑے،حکومت خود چل کر آئے۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو کہنا چاہتی ہوں کہ یہ نوکری نہیں مشن ہے۔

مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر صحت،سیکرٹری اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ان کے خطاب کے دوران سٹیڈیم تالیوں سے گونجتا رہا۔وزیراعلی ٰحوصلہ افزائی کیلئے ہاکی سٹیڈیم کے ٹریک پر ہر انکلیوژرکے سامنے گئیں۔ انہوںنے سٹیڈیم کے ٹریک پر طویل چکرلگاکرہرضلع سے آنے والی کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزکا خیر مقدم کیا۔مریم نوازشریف نے قائد محمد نوازشریف کا پورٹریٹ تھامے بچی کی خودموبائل فون سے تصویر بنائی۔ تقریب میں دھنیں بکھرتے بینڈ کے پیچھے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کے دستے نے مارچ پاسٹ کیا۔ وزیراعلی کو انسپکٹرز کے دستے نے سلامی پیش کی۔ تقریب میں پراجیکٹ پر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی میں مریم نوازشریف کا کسی وزیراعلیٰ سے کوئی موازانہ نہیں ہوسکتا۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزنے موبائل کی لائٹس آن کر کے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔