لاہور کی نجی یونیورسٹی میں دوسری منزل سے گرنے والی21سالہ طالبہ کی حالت میں بہتری آنا شروع ہوگئی ، جنرل اسپتال میں وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ اب خود سانس لے رہی ہے۔آکسیجن سپورٹ جاری ہے اور ہیمو ڈائنامکس بھی مستحکم ہیں۔
سربراہ میڈیکل بورڈ کے مطابق طالبہ کو ہوش آ گیا ہے اور اس نے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی ہے۔ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی حالت پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر مریضہ کی حالت تسلی بخش اور بتدریج مستحکم ہو رہی ہے۔
سربراہ میڈیکل بورڈ کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کی سرجری سے متعلق جمعرات کو دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، ماہرِ نفسیات کی ٹیم بھی مریضہ کا انٹرویو کرے گی۔
رائے ونڈ روڈ پر واقع یونیورسٹی کی طالبہ نےمبینہ طور پراپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش تھی اور انھیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم کے مطابق طالبہ نے ستمبر 2025 میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کافی باتیں سامنے آ رہی ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور تحقیقات مکمل ہونے پر ہی اصل حقیقت سامنے آئے گی۔
یونیورسٹی آف لاہور میں چند روز کے دوران یہ ایسا دوسرا واقعہ ہے۔ گذشتہ ماہ فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے ہی ایک طالب علم اویس نے عمارت سے کود کرجان کی بازی ہارگیاتھا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos