امریکی دستاویزات نے مئی 2025 کی جنگ پر پاکستان بھارت کے پول کھول دیئے

امریکہ میں سامنے آنے والی دستاویزات نے مئی 2025 کے دوران پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی جانب سے پس پردہ کی جانے والی لابنگ کی کوششوں کا پول کھول دیا ہے۔

امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت جمع کروائی گئی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ جنگ کے دوران بھارتی اہلکاروں نے کم ازکم چار مرتبہ واشگنٹن فون کیے۔ یہ انکشاف بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں مودی سرکار کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔

دوسری جانب دستاویزات سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ جنگ کے دوران پاکستان نے امریکی میڈیا کی رائے اپنے حق میں ہموار کرنے اور امریکی کانگریس سمیت سیاستدانوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے 50 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

پاکستان نے بارہا یہ مؤقف دہرایا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی مذمت کی جن میں 40 عام شہری ہلاک ہوئے اور کہا کہ انڈیا کے دہشت گرد گروہوں کی حمایت بھی مسئلے کی جڑ ہے۔

اس دوران پاکستان نے یہ واضح بھی کیا کہ اگر پاکستان پر انڈیا کی جانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو وہ اپنے عوام اور علاقے کا دفاع کرے گا اور ساتھ ہی انڈیا کے ساتھ دہشت گردی، پانی کے معاہدے اور دیگر مسائل پر بات چیت کی خواہش بھی ظاہر کی۔

دوسری جانب انڈین اہلکاروں نے 10 مئی کو، جب جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، واشنگٹن میں امریکی لابیئسٹ جیسن ملر کے توسط سے امریکی انتظامیہ کے چار سینیئر اہلکاروں کو فون کیا تھا۔

اُس دن انڈین سفارتکاروں نے امریکی محکمہ تجارت کے نمائندے جیملسن گریر، نیشنل سیکورٹی کونسل کے ریکی گل، وائٹ ہاؤس کے سٹیوین چنگ اور چیف آف سٹاف سوزی وائلس سے رابطہ کیا تھا۔

کوئنسی انسٹیٹیوٹ میں ’ڈیماکریٹائزنگ فارن پالیسی‘ کے ڈائریکٹر بیجمن فری مین کے مطابق دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان نے نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل جیسے میڈیا اداروں تک وسیع رسائی حاصل کی۔ اور پاکستان کے غیر ملکی ایجنٹس نے بلاشبہ بحران کے دوران امریکی میڈیا کے بیانیے کو پاکستان کے حق میں موڑنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ 10 مئی کو انڈین اہلکاروں نے نہ صرف نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکی گل اور چیف آف سٹاف سوزی وائلز سے ہی بات کی بلکہ انھوں نے محکمہ تجارت کے نمائندہ جیملسن گریئر سے بھی رابطہ کیا۔

فارا قانون کیا ہے

امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت امریکہ میں لابنگ کرنے والے تمام ادارے اور افراد اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیوں کی تفصیلات حکومت کے پاس جمع کرائیں۔ سبب یہ ہے کہ یہ افراد دوسرے ممالک کے ایما پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ تفصیلات جمع نہ کرانے والے ایجنٹس کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔