ڈی جی آئی ایس پی آرکی حالیہ پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی قیادت کا ردِعمل

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے دہشتگردی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کا واحد ایجنڈا دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ دہشتگردی کو ایک ناسور سمجھتی آئی ہے اور اس معاملے پر سیاست کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام 14 نکات پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت اور پی ٹی آئی کا مؤقف یکساں ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ صوبائی حکومت تعاون نہیں کر رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت، اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پی ٹی آئی دہشتگردی کا نشانہ نہیں بنتی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے متعلقہ فورمز استعمال کیے جانے چاہئیں، غیر ضروری بیانات سے فاصلے بڑھتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کیا ہے اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پی ٹی آئی کو ہدف بنا کر ایسی پریس کانفرنسز نہیں ہوں گی۔

مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس وقت کسی سے مذاکرات نہیں ہو رہے، مذاکرات کا مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی نے علامہ راجا ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی آواز کو سنا جانا چاہیے کیونکہ ادارے اور سیاستدان عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی میں اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیجا۔

اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو دہشتگردوں کا ہمدرد قرار دینا سراسر غلط ہے۔ پی ٹی آئی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ معصوم شہریوں کے قتل کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر سے داعش کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق سوال کیا گیا مگر واضح جواب نہیں ملا۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے، شادیوں اور مساجد کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے، اسی لیے پی ٹی آئی بعض آپریشنز پر تحفظات رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے کے حل کے لیے افغان حکومت سے بات چیت ناگزیر ہے اور قومی سطح پر ایک مستقل پالیسی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں معیشت کمزور ہے وہاں دہشتگردی کے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ہم یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر شہری کو تشدد سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی بھی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

اسد قیصر نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ مؤقف واضح کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط اداروں اور مضبوط فوج کی ضرورت ہے، تاہم آئین کی بالادستی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں جاری طویل آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 17 سے 18 سال کے باوجود دہشتگردی ختم ہونے کے بجائے بڑھی ہے، اس لیے پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو این ایف سی اور دیگر مدات میں اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا جس سے ترقی متاثر ہو رہی ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ پارٹی عوام اور اداروں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردی سے متاثر ہوئی ہیں اور کسی کو بھی اس مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔