فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

پی ٹی آئی کی مقبولیت کا جنازہ نکل گیا،10ہزار بندے جمع کرنا مشکل

امت رپورٹ :
اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی خاطر پی ٹی آئی کے لیے دس ہزار بندے جمع کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ عمران خان کے لیے اپنے وکلا اور فیملی ارکان سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی جاری ہے۔ تاہم ہر منگل کو بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اڈیالہ جیل کے نزدیک دھرنا دینے پہنچ جاتی ہیں۔ ان کے ہمراہ چند سو کارکنان بھی ہوتے ہیں۔ ہر بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کیے بغیر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا اور پھر نصف شب یا صبح صادق سے پہلے بوریا بستر سمیٹ لیا جاتا ہے۔ قریباً دو تین بار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو واٹر کینن کا استعمال بھی کرنا پڑا۔

عمران خان کی بہنوں کو اصل مایوسی کارکنان کے بڑی تعداد میں نہ آنے سے ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ اگر اس تعداد میں اضافہ ہو جائے تو شاید وہ حکومت پر دبائو ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے بقول گزشتہ سے پیوستہ منگل کو کارکنان کی تعداد پہلے سے بھی کم تھی، جس پر علیمہ خان اور ان کے قریب رہنے والے لوگوں نے سر جوڑ لئے۔ ان کے سامنے دو اہم معاملات تھے۔ ایک یہ کہ انتظامیہ کو واٹر کینن کے استعمال سے کیسے روکا جائے؟ کیونکہ اس سردی میں کوئی بھی ٹھنڈے پانی میں بھیگنے کے لیے تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر منگل کو کارکنان کی تعداد میں کمی ہوتی جارہی ہے۔

دوسرا یہ کہ کارکنان کو کیسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں نکالا جائے؟ مختلف تجاویز کی روشنی میں یہ طے پایا کہ اس بار منگل کو دھرنے کے مقام پر سورہ یٰسین کا ختم کرایا جائے گا۔ یوں ایک تیر سے دو شکار کیے جاسکیں گے۔ ایک تو دھرنے کو ’’اسلامی ٹچ‘‘ مل جائے گا اور دوسرا سورہ یٰسین پڑھتے ہوئے لوگوں کے خلاف انتظامیہ واٹر کینن استعمال نہیں کر سکے گی۔ اگر اس کے باوجود ایکشن ہوتا ہے تو پھر مذہبی ٹچ کے ساتھ سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ سوچ بھی تھی کہ مذہبی ٹچ والا سیاسی شو بھی تب ہی کامیاب ہوسکتا ہے، جب کارکنان بڑی تعداد میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں۔ اس کے لیے دس ہزار کارکنان کا ہدف طے کیا گیا۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی گئی کہ اس منگل کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام چھوٹے بڑے عہدیداران، ٹکٹ ہولڈر اور ارکان اسمبلی اپنے ساتھ کارکنان کو لے کر اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں۔

اس سلسلے میں جہاں پی ٹی آئی سے وابستہ درجنوں سوشل میڈیا اکائونٹس متحرک رہے۔ وہیں خود علیمہ خان نے اپنے ایکس اکائونٹ پر بھی اس حوالے سے پوسٹ لگائی۔ تاہم معرکے کا دن آیا تو اڈیالہ جیل پہنچنے والوں کی تعداد ساڑھے چار سو سے پانچ سو تک تھی۔ علیمہ خان کے ساتھ اس دھرنے میں شریک ایک کلٹ فالوور کے بقول کارکنان کی اس قدر کم تعداد دیکھ کر علیمہ خان بہت اپ سیٹ اور مایوس تھیں۔ انہوں نے وہاں اپنے اردگرد موجود کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت تاسف کے ساتھ کہا ’’یہ پتہ نہیں کارکنان کیوں سوگئے ہیں۔ صرف راولپنڈی ڈویژن کے چھوٹے بڑے ملاکر پانچ ہزار پارٹی عہدیداران ہیں۔ اگر صرف یہ عہدیدار ہی آجائیں تو دس ہزار کارکنان کا ہدف پورا ہوسکتا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں ضلع اٹک، ضلع چکوال، ضلع جہلم، ضلع راولپنڈی، ضلع مری اور تلہ گنگ شامل ہیں۔

دھرنے کا آنکھوں دیکھا حال بتانے والوں کا کہنا تھا کہ رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب پولیس نے وہاں موجود محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا اور انہیں انتباہ کیا گیا کہ آمد و رفت میں خلل پڑ رہا ہے۔ اگر نصف گھنٹے کے اندر دھرنا ختم نہیں کیا گیا تو پھر ایکشن لیا جائے گا۔ اس دوران واٹر کینن کی گاڑیاں اپنی پوزیشنیں لینے لگیں۔ گھاگ اچکزئی نے پولیس کے سنجیدہ ارادوں کو بھانپ لیا کہ یہ صرف انتباہ نہیں، بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے گا۔ وہ پچھلے دھرنے میں علامہ ناصر عباس کے بھیگنے کا منظر دیکھ چکے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ اس بڑھاپے میں خود بھی اس تجربے سے گزریں۔ چنانچہ انہوں نے فوری طور پر علیمہ خان کو مشورہ دیا کہ مزید بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، واپسی کی تیاری کی جائے۔ تاہم مشکل یہ تھی کہ کارکنان کو کیا جواز دیا جائے۔ چنانچہ اچکزئی نے پولیس سے کہا ’’ہم واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگلے منگل کو بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کرادی جائے‘‘۔ وہاں موجود پولیس کے ذمہ داران نے بھی جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا ’’ہم کوشش کریں گے‘‘۔

یعنی ملاقات کرانے کی ہامی پھر بھی نہیں بھری۔ تاہم اچکزئی اور علیمہ خان کو فیس سیونگ کے لیے یہ جملہ بھی بہت تھا۔ حالانکہ دونوں کو علم تھا کہ ملاقات کی اجازت دینا پولیس کے اختیار میں نہیں اور اگلے منگل کو بھی یہی صورتحال ہوگی۔ قصہ مختصر رات کو ایک بج کر پانچ منٹ پر کاررواں واپسی کے لیے بنی گالہ روانہ ہوگیا۔ یعنی اس بار گزشتہ منگل کے مقابلے میں بہت پہلے ’’انقلاب‘‘ کی واپسی ہوگئی۔ اس واپسی سے قبل اچکزئی نے وہاں موجود چند پی ٹی آئی حامی یو ٹیوبرز سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا دکھ اپنی زبان سے بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا ’’اگر اڈیالہ کے باہر دس ہزار کارکنان نہیں آئے تو پھر عمران خان سے ملاقات کو بھول جائو‘‘۔

اب آنے والے منگل کو ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار کارکنان جمع کرنے کا ہدف پورا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے پینتالیس فیصد اور پنجاب سے پینتیس فیصد ووٹ لینے اور ملک کی سب سے مقبول پارٹی کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر تمام تر کوششوں کے باوجود محض دس ہزار کارکنان جمع کرنے سے کیوں قاصر ہے؟ اس کا ممکنہ جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی پشاور کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ اب لوگ پارٹی کے دوہرے معیار، قیادت کی اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کو سمجھ چکے ہیں اور اپنے بچوں کو خودغرض قیادت کا ایندھن بنانے پر تیار نہیں۔

انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ کس طرح نو مئی اور چھبیس نومبر کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ ان کی زندگیاں اور خاندان برباد ہوگئے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر کمپین چلانے والے اپنے بچوں کو تو چھپاکر رکھتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ’’قربانی‘‘ دینے پر اکسا رہے ہیں۔ اس عہدیدار کے بقول اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر اجتماع کے لیے پنجاب کی پارٹی قیادت اور کارکنان کو آگے آنا چاہیے۔ لیکن حیران کن طور پر یہ بوجھ بھی خیبرپختونخوا کی قیادت اور کارکنوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ پنجاب سے کوئی نکلنے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک منگل کو علیمہ خان کے ساتھ خیبرپختونخوا کے کارکنان اور ایک منگل کو پنجاب کے کارکنان جائیں گے۔ یہ باریاں اس لئے رکھی گئی ہیں کہ پنجاب کے کارکنان بھی اپنے حصے کی ’’قربانی‘‘ دیں۔

بیرون ملک بیٹھے عمران خان کے ایک کلٹ فالوور کی دکھ بھری سوشل میڈیا پوسٹ اس ساری صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ لاہور میں سال نو کا جشن منانے پورا لاہور امڈ آیا تھا۔ اسلام آباد میں نیو ایئر نائٹ کے بھی یہی مناظر تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا۔ اس منظر کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کلٹ فالوور نے ٹوٹے ہوئے دل کے ایموجی کے ساتھ لکھا ’’اسلام آباد میں سال نو کا جشن۔ میرا خان غلط لوگوں کے لیے قربانیاں دے رہا ہے‘‘۔

اس کی پوسٹ کا لب لباب یہ تھا کہ سال نو کے جشن میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر تھے۔ لیکن اڈیالہ کے باہر دس ہزار بھی جانے سے گریزاں ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اب ان کا اصل شعور بیدار ہوچکا ہے۔ اسی شعور کی بدولت مقبولیت کا جنازہ نکل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔