یورپی یونین اور جنوبی امریکی ملکوں کے بلاک میرکوسر (Mercosur)کے ساتھ ایک حالیہ تجارتی معاہدے کے خلاف انوکھا احتجاج کرتے فرانسیسی کسانوں کی ایک بڑی تعداد ٹریکٹروں پر سوار ہوکر دارالحکومت پیرس میں داخل ہو گئی۔ یہ کسان اس بات پر ناراض ہیں کہ یورپی یونین کا میرکوسر کے ساتھ معاہدہ ان کے لیے غیر صحت مند کاروباری مقابلے کی وجہ بنے گا۔
پیرس حکومت نے، جس کی اس یورپی معاہدے میں رضا مندی شامل ہے، واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ کسان اپنے غیر قانونی احتجاج سے باز رہیں۔حکومتی تنبیہ کے باوجود فرانسیسی کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مختلف شہروں سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر نہ صرف پیرس کا رخ کیا بلکہ شہر میں داخل بھی ہو گئی۔
اس احتجاج کا انتظام کاشت کاروں کی ملکی تنظیم نے کیا ہے، جو دیہی کنفیڈریشن یونین کہلاتی ہے۔ اس تنظیم کے احتجاجی ارکان میں سے درجنوں ٹریکٹروں پر سوار بہت سے کسان جمعرات کی صبح طلوع آفتاب سے پہلے ہی پیرس میں داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے کچھ دیر کے لیے بین الاقوامی سطح پر معروف مقامات آئفل ٹاور اور فتح کی محراب کے پاس قیام بھی کیا۔ یونین کے صدر بیرتراں وینتو نے کہاتھاکہ احتجاج کے دوران شرکا پیرس کے علامتی طور پر انتہائی اہم مقامات پر اپنی آواز بلند کریں گے اور اگر ضروری ہوا تو پولیس کو گرفتاریاں بھی دیں گے۔
پیرس میں داخل ہونے والے کسانوں کے ٹریکٹروں پر کئی نعرے درج تھے۔ ان میں یہ نعرہ بھی شامل تھا”میرکوسر ٹریڈ ڈیل نامنظور”۔معاہدے کے نتیجے میں اب دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی خطوں میں سے ایک کا قیام ممکن ہو گیا ہے۔ 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین سے لاطینی امریکہ کو زیادہ گاڑیاں، مشینری، وائنز اور سپرٹس برآمد کی جا سکیں گی۔لیکن فرانسیسی کسانوں کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے لاطینی امریکی خطے سے یورپی یونین میں سستی زرعی مصنوعات کی بھرمار ہو سکتی ہے، جو یورپی زرعی شعبے کے لیے بہت نقصان دہ بات ہو گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos