28جنوری کو یاسین ملک کو پھانسی کی سزاسنائے جانے کا خدشہ ہے۔ مشعال ملک

بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنمایاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشال ملک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یاسین ملک کو 28جنوری کو پھانسی دی جا سکتی ہے ، کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ، میں صرف اپنے شوہر کے لیے نہیں بلکہ لاکھوں شہدا کے لیے نکلی ہوں ۔

راولپنڈی راجہ بازار کے باجوڑ پلازہ میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کشمیر کی تحریک سیاست نہیں، قربانی اور انسانیت کی تحریک ہے، ہم ووٹ یا اقتدار کے لیے نہیں نکلے ،کشمیری اور فلسطینی آج حق و باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں، مودی کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین نسل کشی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال کی گئیں لاکھوں کشمیری شہید ہزاروں لاپتہ ہیں مگر دنیا خاموش تماشا ئی بنی ہوئی ہے، مساجدشہید کی جا رہی ہیں، خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے، خوف کے بت توڑنا ہوں گے، مشعال ملک نے کہا یاسین ملک ساڑھے چھ سال سے تنہائی سیل میں قید ہیں، انہیں وکیل اور اہلِ خانہ اسے ملاقات کا حق نہیں دیا جا رہا۔

واضح رہے کہ یاسین ملک پر بھارتی حکومت نے جو کیسزبنائے ہیں، ان میں بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے سزائے موت کے لیے اپیل کررکھی ہے جو دہلی ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ اس مقدمے کی اگلی تاریخ 28جنوری مقررکی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔