تصویر: ادارہ فروغ قومی زبان

برطانوی خاتون محقق اور ادیبہ اردوکی طرف کیسے راغب ہوئیں؟

ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام برطانیہ سے تشریف لائی معروف محقق اور اردو ادب کی خدمت گزار ایلس ایمانویل لِزیا (Alice Emmanuelle Lyzzia)کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد اردو زبان و ادب کی تدریس، تحقیق اور فروغ کے لیے ان کی علمی خدمات کا اعتراف اور خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ میزبانی ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے انجام دی۔ صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کی۔ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے معزز مہمانِ خصوصی اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا اور خیر مقدمی کلمات پیش کیے۔

کلیدی مقررایلس ایمانویل لِزیا نے اپنی گفتگو میں اردو زبان و ادب سے گہری وابستگی، تحقیق کے تجربات اور علمی سفر پر روشنی ڈالی۔ایلس کا کہناتھاکہ پاکستانی شاعرات کوپڑھ کر اردو میں دلچسپی پیداہوئی۔رخسانہ احمد کی کتابWe sinful women جو اردوکی نسوانی شاعری پر ہے، پڑھنے کا موقع ملاجس میں کشورناہید، فہمیدہ ریاض،سارہ شگفتہ اور دیگر شاعرات کا کام شامل ہے۔مجھے اس شاعری کی طرف ایک کشش محسوس ہوئی۔خاص طورپر سارہ شگفتہ کی نظموں نے مجھ پر گہرااثر کیا۔تب میں صرف انگریزی پڑھ سکتی تھی لیکن ان کی نظموں نے مجھے جکڑلیا۔تین سال بعد کمپیریٹولٹریچر میں ماسٹرزکرنے کے لیے داخلہ لیا لیکن وبا کی وجہ سے اردوزبان وادب کے کورس منسوخ کردیئے گئے ۔اس پر میں نے خود کوشش کی کہ کتابوں سے اردوسیکھوں۔میں نے پڑھناسیکھا، لغات کی مددسے ترجمہ کرنے لگی،پھر پی ایچ ڈی کے دوران بھی اسی راستے پر چلتی رہی۔میں نے اردوافسانوں اور شاعری کو باربار سنا۔شگفتہ کی نظمیں بار بار پڑھیں ۔ا س طرح یہ ادب ہی تھاجس نے مجھے زبان سیکھنے میں مدد دی۔انہوں نے کہا کہ اردوبے حد خوبصورت زبان ہے،زبان کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے اور یہ زندہ بھی ہے۔اس لیے یہ صرف کتابوں سے نہیں سیکھی جاسکتی۔لہذامیرے لیے انگلینڈ میں رہتے ہوئے اردوبولنے کی عادت بنانامشکل تھا۔

ایلس ایمانویل نے پاکستان میں لوگوں کے حسن سلوک، علمی فضا اور زبان و ادب سے محبت کی دل کھول کر تعریف کی۔ انھوں نے مستقبل میں اردو تراجم اور تحقیقی منصوبوں پر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے مس ایلس کی اردو زبان و ادب سے کمٹمنٹ کو سراہتے ہوئے ان کی تحسین کی اور اسے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

سوالات کے سیشن میں مس ایلس نے نہایت سنجیدگی اور خوش دلی سے جواب دیے۔ شرکائے تقریب نے ان کے شیریں لہجے، واضح تلفظ اور اردو دانی کو بے حد سراہا۔تقریب کے اختتام پر صدرِ تقریب پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے معزز مہمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ادارہ فروغِ قومی زبان کی دعوت قبول کی۔انھوں نے کہا کہ جس کمٹمنٹ، لگن اور محنت سے مس ایلس اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں،امید ہے ان کا نام مستقبل میں مذکورہ اساتذہ اور ڈاکٹراین میری شمل کے ساتھ لیا جائے گا۔اس موقع پرڈاکٹر ایلس کو ان کی خدمات پر خراج تحسین کے ساتھ اردو زبان و ادب اور ثقافت کی نمائندہ اور سفیر قرار دیا گیاجس پر مس ایلس نے خوشی کا اظہار کیا اور برطانیہ میں اردو زبان و ادب ، ثقافت کی تدریس و تحقیق سے خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تقریب میں جڑواں شہروں کے ممتاز ادیبوں، دانشوروں اور اسکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔