انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے 5 مقدمات میں فواد چوہدری کی ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کر دی۔ عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کے ریکارڈ بھی طلب کر لیے۔ سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج منظر علی گل نے کی، جس میں فواد چوہدری اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئے۔
عدالت سے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ یہ ان کی 325 ویں پیشی تھی اور ملک میں مذاکرات کی ضرورت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی تین وقت کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے، جس سے ملکی معاشی حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ ان کی آمدنی اب 2015 کے سطح پر پہنچ گئی ہے اور درمیانے طبقے کی معاشی حالت بگڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روزانہ سیاسی تماشا دیکھنا چاہتی ہے اور "لوگوں کو 2،2 ہزار سال کی سزائیں سنانا” ملک کے لیے قابل قبول نہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کی طرف سے بھی سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کرنی چاہیے، اور اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں مدد کی۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں وہ ملتان جائیں گے اور بشری بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل سے رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری کے مظاہرے کو سراہا، جبکہ سہیل آفریدی کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos