اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے دہشت گردوں کو لا کر بسایا، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان کی دشمن ہے اور ریاست آخری دم تک اس کا تعاقب کر کے خاتمہ کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے دہشت گردوں کو شہید قرار دیا، مگر پاک فوج کے شہداء کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف بات کرتے وقت پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے، جبکہ قوم آج جس دہشت گردی کا سامنا کر رہی ہے اس کے اثرات ماضی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دیں، جبکہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد خیبر پختونخوا میں امن بحال ہوا تھا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، اسٹاک ایکسچینج ریکارڈ سطح پر ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کی گئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، مختلف ممالک پاکستان سے تجارتی اور دفاعی تعاون کے خواہاں ہیں۔ ملائیشیا نے پاکستان سے حلال گوشت اور چاول درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مضبوط ہوا ہے۔
سفارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، مگر اب ملک عالمی سطح پر دوبارہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اوورسیز پاکستانی اب پاکستان میں سرمایہ کاری پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔
سال 2025 کو کامیابیوں کا سال قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عسکری اور معاشی دونوں محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، اور افواجِ پاکستان نے قومی سلامتی کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
خواتین سے متعلق بیان پر وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کی تضحیک افسوسناک ہے اور ایسے بیانات کسی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو نشانہ بنانا کمزوری کی علامت ہے۔
خیبر پختونخوا کی گورننس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos