وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ رمضان پیکیج کے تحت مالی امداد خصوصی طور پر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کی جائے، اس اقدام سے مستحقین کے وقار اور عزت نفس کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان پیکج کی تیسرے فریق کی توثیق کے بارے میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز نے کہا کہ ڈیجیٹل والیٹس کے ذریعے امداد کی تقسیم سے کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت سے اس عمل میں آسانی ہوگی۔
شہباز شریف نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والیٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت مستحق افراد کو سم کارڈ فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارچ 2026 سے امدادی ادائیگیاں ان سمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر تقسیم کی جائیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے رمضان پیکیج کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو رعایتی نرخوں پر اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کا نظام متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کا سابقہ ماڈل بدانتظامی اور بے ضابطگیوں سے متاثر ہوا تھا جس کی وجہ سے کچھ مستحقین کو ان کے حقوق حاصل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو آئندہ رمضان کے لیے ایک بہتر پیکج تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کم اور متوسطآمدنی والے گھرانوں کے لیے مالی امداد اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات ہیں۔وزیراعظم نے وزارتوں اور ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو زیادہ سے زیادہ حد تک امدادی پروگرام میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور مانیٹرنگ سسٹم بنانے پر بھی زور دیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos