فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کی ہٹ دھرمی ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ امارات منتقل ہونے کا امکان

میگزین رپورٹ :
آئندہ ماہ بھارت میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد پرغیریقینی کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں۔ پاکستان کے بھارت جا کرکھیلنے سے انکار کے بعد، جہاں بھارتی کرکٹ بورڈ ایونٹ کا آدھا حصہ سری لنکا منتقل کرنے پر مجبورہوا، وہیں اب بنگلہ دیش کے سخت موقف نے بھارتی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھارت میں کھیلنے پرمسلسل ہچکچاہٹ کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بی سی سی آئی کو خفت سے بچنے کے لیے پورا ایونٹ متحدہ عرب امارات منتقل کرنا پڑسکتا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی کے اعلیٰ حکام اس بحران کو ٹالنے کے لیے بنگلہ دیشی بورڈ کو قائل کرنے کی بھرپورکوششیں کر رہے ہیں، تاہم اب تک کسی بھی قسم کا بریک تھروسامنے نہیں آسکا ۔

اس وقت سب سے بڑا سفارتی و انتظامی بحران بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے نے پیدا کردیا ہے، جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات اورسیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کربھارت جانے سے صاف انکار کردیا ہے۔ جس کی ایک کڑی مستفیض الرحمٰن کے آئی پی ایل سے اخراج کو بھی قراردیا جارہا ہے۔

اگر بنگلہ دیشی ٹیم اپنے موقف پر ڈٹی رہی تونہ صرف ٹورنامنٹ کا پورا شیڈول درہم برہم ہوجائے گا بلکہ آئی سی سی کو پوائنٹس کی کٹوتی جیسے سخت تادیبی اقدامات بھی کرنے پڑسکتے ہیں، جس سے ایونٹ کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ مالیاتی محاذ پربھی آئی سی سی کو ایک بڑے دھچکے کا سامنا ہے کیونکہ معروف بھارتی براڈکاسٹر ‘JioStar’ نے بھاری مالی خسارے کے باعث اپنا چارسالہ معاہدہ ختم کردیا ہے۔ ورلڈ کپ سے محض چند ہفتے قبل نئے براڈکاسٹر کی عدم موجودگی نے ایونٹ کی کمرشل ویلیو پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے، حالانکہ آئی سی سی اب نیٹ فلکس اور ایمیزون جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمزسے مذاکرات کررہا ہے مگر ابھی تک کوئی حتمی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

اس کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پربھی مشکلات کم نہیں ہیں، خاص طور پر دیگر عالمی ٹیموں میں شامل پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کوبھارت کے ویزے جاری کرنے میں ہونے والی تاخیر نے ایک بار پھر انتظامی بحران کی صورت اختیار کرلی ہے جو عالمی سطح پرتنقید کا باعث بن رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے لاجسٹکس اورسیکورٹی معاملات بھی مبصرین کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، جہاں فروری اور مارچ کے دوران سری لنکا میں غیر متوقع بارشوں کے سائے منڈلا رہے ہیں جو کئی اہم میچوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول روایتی حریفوں، پاک بھارت ٹاکرے کے لیے سیکورٹی الرٹ انتہائی ہائی رکھا گیا ہے۔ جبکہ پاک بھارت اہم مقابلہ بھی بارش کی زد آسکتا ہے۔ ان ممکنہ بحرانوں کے پیش نظر متحدہ عرب امارات مضبوط نیوٹرل وینیو کے طورپر سامنے آیا ہے۔اگرچہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ اس مختصر وقت میں لاجسٹکس، براڈکاسٹنگ اور ہوٹلنگ جیسے وسیع انتظامات کو دوسرے ملک منتقل کرنا ناممکن ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اگرسیاسی تناؤ برقرار رہا تو ایونٹ کو بچانے کے لیے ہائبرڈ ماڈل ناگزیرہو جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کو منتقلی کے امکانات کی بڑی وجہ وہاں کا عالمی معیار کا انفراسٹرکچر اور قلیل نوٹس پر بڑے ایونٹس کروانے کا تجربہ ہے، جیسا کہ 2021ء کا ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے مختلف ایڈیشنز میں دیکھا جا چکا ہے۔

یو اے ای کے اسٹیڈیمز کے درمیان کم فاصلہ اور مناسب ٹائم زون اسے براڈکاسٹرز کے لیے بھی ایک پرکشش انتخاب بناتا ہے۔ لیکن فی الوقت اسے ایک بیک اپ پلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ادھرکرک انفو کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان جاری مذاکرات ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

آئی سی سی نے بھارت میں کھیلنے سے متعلق بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ آئی سی سی کا موقف ہے کہ ٹورنامنٹ کے میزبان ملک کی تبدیلی اس مرحلے پر ممکن نہیں ہے، اس لیے تمام تر توجہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو بہتر بنانے پر مرکوز کر دی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کو قائل کرنے میں ناکامی کی صورت میں تاریخ میں پہلی بار طاقتور بھارتی بورڈ کو اپنی ہی سرزمین پر غیر ملکی شرائط کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔