آپ چالیس برس پہلے اسلام آباد کی ہریالی دیکھنا چاہتے ہیں؟

آج پاکستان کے وفاقی دراالحکومت میں درخت کٹ رہے ہیں اور شہر کنکریٹ کا جنگل بن رہا ہے۔لیکن آج سے 20سے پہلے شہر بہت مختصر اور خوبصورت تھا اور چالیس برس پہلے تو یہ ایک سنسان شہروں میں شمار ہوتا تھا۔یہ سٹیلائیٹ ویو دسمبر 1985کا ہے۔ یعنی آج سے چالیس برس پہلے کا۔

اس وقت اسلام آباد کے کوئی چھ سیکٹر ہی پوری طرح آباد تھے۔باقی ہر جانب درختوں کی بہار تھی۔راولپنڈی یہاں سے کافی دور معلوم ہوتا تھا۔

اسلام آباد کی یہ تنہائی طویل عرصے تک برقرار رہی۔حتیٰ کہ 2005میں بھی آبادی جی الیون تک ہی پہنچی تھی۔ جنگلات کو کسی نے چھوا تک نہ تھا۔پھر 2010کے بعد معاملات بگڑنے لگے۔اور 2020کے بعد تو جیسے شہر کو کنکریٹ کے میدان میں تبدیل کرنے کا جنون پیدا ہوگیا۔

آج پرانے اسلام آباد سے پانچ گنا زائد رقبہ اینٹوں یا کنکریٹ کی عمارتوں سے ڈھک چکا ہے۔حالیہ دنوں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی ہوئی ہے۔سابق وزیر مملکت عابد شیر علی کا کہناتھا کہ سڑکیں بنانے کیلئے یہ ضروری ہے۔ان کی بات اپنی جگہ، لیکن اسلام آباد کی ان تصاویر کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے؟کیا ہم ترقی کر رہے ہیں یا پھر ہم نے اپنی تباہی کا سامان پیدا کر لیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔