رضاپہلوی۔فائل فوٹو

رضاپہلوی کی تصاویر اورانقلاب سے پہلے کاپرچم۔ایرانی تحریک نے کیارخ اختیارکرلیا؟

ایران میں احتجاجی مظاہروں کو آج 2 ہفتے مکمل ہوجائیں گے۔لگ بھگ 10 دن یا زیادہ تک، یہ تحریک غیر منظم تھی لیکن گذشتہ 2 دن سے ایسی وڈیوزدیکھی جارہی ہیں جن میں کئی ایرانی شہری رضا شاہ پہلوی کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں اور انقلاب ایران سے پہلے کا پرچم بھی بڑی تعدادمیں نظرآرہاہے۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ جمعرات کو ہزاروں لوگوں کے ہجوم کو تہران کی سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے، ایرانی سرکاری نشریاتی اداروں کی ایک عمارت کو آگ لگاتے ہوئے اور شیر اور سورج کے نشان والے ایک جھنڈے کو لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے -یہ 1979 سے پہلے ایران کا جھنڈا تھا۔

یہ آخری جنگ ہے۔ پہلوی واپس آئے گا! جلاوطن سابق ولی عہد کی جانب سے اپنے ہم وطنوں کو سڑکوں پر آنے کی تلقین کرنے کے بعد جمعرات کی رات ایران میں ملک گیر مظاہروں کے نمایاں نعروں میں سے ایک تھا۔

جمعہ9 جنوری کی صبح تک،ایران کے دارالحکومت میں جاری رہنے والا احتجاج اس بات کا پہلا امتحان تھا کہ آیا ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کے ذریعے ایرانی عوام کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔اس دوران،واشنگٹن میں مقیم، شاہ کی حمایت میں آوازیں سنی گئیں، جو ماضی میں موت کی سزا کا باعث بن سکتی تھی لیکن اب ایران کی خراب معیشت پرجاری مظاہروں کو ہوا دینے والے غصے کی نشاندہی کرتی ہے۔

معزول بادشاہت کی حمایت ایران میں ممنوع اورایک مجرمانہ عمل ہے،ایک ایسا جذبہ جس کو اس معاشرے نے طویل عرصہ سے ترک کیا ہوا تھا جس نے شاہ کی آمریت کو ختم کرنے کے لیے ایک عوامی بغاوت کی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ شاہ محمد رضا پہلوی کے سب سے بڑے بیٹے،رضا پہلوی صرف 16 سال کے تھے جب ایران میں 1979 کے انقلاب نے ان کے والد کی 40 سالہ حکمرانی کاخاتمہ کر دیا۔وہ تیل سے مالا مال ہزار سالہ سلطنت کے وارثوں کی صف میں سب سے پہلے تھے۔اب 65 سال کی عمر میں، تقریباً نصف صدی کے بعد ان کا انتظار بالآخر ختم ہونے والا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران میں احتجاجی تحریک جو اب تک بڑے پیمانے پر بے قائد تھی، اس شخصیت کے گرد جمع ہو چکی ہے، حالانکہ یہ واضح نہیں تھا کہ نعرے بنیادی طور پر ولی عہد کی حمایت میں تھے یا 1979 سے پہلے کی حکمرانی کے۔

سی این این کے مطابق پہلوی نے خود کو ایک حقیقی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران میں مظاہرین پر بڑا کریک ڈائون ۔200 سے زائداموات

رضا پہلوی، ایرانی شہریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے سرکاری، سیاسی اور میڈیا اداروں سے رابطہ کریں اوران مظاہرین کے فراموش نہ کیے جانے کو یقینی بنانے میں اہم کردارادا کریں۔ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ میں، پہلوی دوسرے ملکوں میں رہنے والے ایرانیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایران میں مظاہروں کی مسلسل میڈیا کوریج میں مدد کے لیے معلومات کا اشتراک کریں۔ان کاکہناہے کہ ہمیں اس آواز کو بین الاقوامی سطح پر خاموش نہیں ہونے دینا چاہیے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان پر عائد تمام پابندیوں کے باوجودایرانی لوگ غیر معمولی ہمت کے ساتھ، لڑ رہے ہیں، اور اندر کے ایرانی دیکھیں کہ آپ ان کے شانہ بشانہ ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

مظاہرین میں شامل ایک46 سالہ مہناز نامی خاتون کا کہناتھا کہ وہ سمجھتی ہیں پہلوی جمہوریت کی طرف منتقلی میں مدد کر سکتے ہیں۔ہم پچھلی بار(2022) میں ایک مضبوط اپوزیشن کے طورپر متحد ہونے میں ناکام رہے لیکن ہم نے سبق سیکھ لیا ،اب ہمیں اس (رضاپہلوی)کے لیے جدوجہد کرنی ہے کیونکہ ہم زندہ رہنے کے لیے بے چین ہیں۔

پہلوی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ مجھے آپ میں سے ہر ایک پر فخر ہے جس نے جمعرات کی رات ایران بھر کی سڑکوں پر فتح حاصل کی۔میں جانتا ہوں کہ انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلات کے باوجود، آپ سڑکوں سے نہیں ہٹیں گے۔ یقینی بنائیں کہ فتح آپ کی ہے!۔
ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ایران میں جاری مظاہروں کو بغورجائزہ لے رہی ہے کہ کیا وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ احتجاج سنگین ہیں، اور ہم ان کی نگرانی جاری رکھیں گے۔

Axios نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اندازہ لگایا تھا کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں میں ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کافی طاقت نہیں تھی، لیکن بتدریج ان کے زور پکڑنے کے بعد اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک موبائل تاجر ماجد کا کہناہے کہ اس بار مختلف محسوس ہوا۔ان مظاہروں کے دوران، وہ لوگ یا وہ طبقے جنہوں نے پہلے کبھی دباؤ محسوس نہیں کیا تھا، اب دباؤ میں ہیں۔یہ حکومت کے خلاف آخری لڑائی ہے۔
43 سالہ ایک شہری نے کہا کہ اس نے،متنازع انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں سمیت، 2009 سے لے کر اب تک ہر احتجاج میں حصہ لیا ہے، لیکن یہ پچھلی تحریکوں سے مختلف محسوس ہورہی ہے کیونکہ لوگوں کی معاشی صورتحال مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور زندگی اب جیسی نہیں رہی ۔

اس کے باوجود ایران کے لیے متبادل قیادت کا مسئلہ حل طلب ہے۔ بہت سے ایرانی، جو علما کی 47 سالہ طویل حکمرانی کے خاتمے کے خواہشمند ہیں، اب بھی بادشاہت کی واپسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پہلوی کی حمایت نہیں کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔