پاکستان نے جواہرات اور قیمتی پتھروں کے لیے اپنی پہلی قومی پالیسی فریم ورک کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد اس شعبے کو جدید بنانا، عالمی معیارات پر پورا اترنا اور پانچ سالوں کے اندر برآمدات کو1ارب ڈالرتک بڑھانا ہے۔
450 ارب ڈالر ذخائرکے باوجود، کمزور سرٹیفیکیشن، محدود پروسیسنگ، اسمگلنگ اور بکھرے ہوئے ضوابط کی وجہ سے پاکستان اس وقت صرف58 لاکھ ڈالر سالانہ برآمد کرتا ہے۔ ستمبر 2024 میں تجارت سے متعلق پارلیمانی ذیلی کمیٹی نے انکشاف کیا تھاکہ پاکستان کو اسمگلنگ کی وجہ سے تقریباً 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
توقع ہے کہ نئی پالیسی ان خلا کو دور کرے گی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گی، اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کو فروغ دے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں قیمتی پتھروں کے شعبے میں اصلاحات اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے قومی پالیسی لائحہ عمل کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں برس فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میں جواہرات اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن کے جغرافیے اور مالیت کے تعین کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جیولاجیکل سروے کیا جائے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے رواں برس ملک میں جیم اسٹونز سے متعلق دو مثالی سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کی بھی ہدایت دی، تاکہ پاکستان کے ذخائر کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ قیمتی پتھروں کے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی کمپنیوں بالخصوص نوجوان کاروباری افراد کو اس شعبے میں آنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ اس شعبے کی ترقی کے لیے دستیاب مالی وسائل کی فوری فراہمی کو یقینی بنائے۔
تمام متعلقہ ادارے، صوبائی حکومتیں اور اسٹیک ہولڈرز مشاورت کے عمل میں شامل ہونے کی ہدایت کردی گئی۔ عالمی معیار کی لیبارٹریز اور سرٹیفیکیشنز کے نفاذ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، جبکہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہو۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos