طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں زچگی کے لیے غیر ضروری آپریشن کا بڑھتارحجان دراصل پیسہ کمانے کا ذریعہ بن چکاہے۔آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میڈیکل اینڈ سوشل ویلفیئر کمیٹی کی جانب سے ”پاکستان میں دورانِ زچگی آپریشن (Cesarean Section ) کا بڑھتا رجحان، وجوہات اور حل” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں ماہر امراض نسواں پروفیسرشیر شاہ سید ، ڈاکٹر شبین ناز مسعود، پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی اور ڈاکٹر بشریٰ محسن نے اظہار خیال کیا ۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمدشاہ سمیت معروف ڈاکٹرز نے شرکت کی۔
سیمینار میں ماہر امراض نسواں ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ خواتین کے اتنے زیادہ سی سیکشن کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا عورت کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ اس کا پیٹ کاٹا جائے؟ پاکستان میں ہر سال بیس ہزار سے زائد خواتین زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سی سیکشن ایک ایسا عمل بن چکا ہے جس میں مالی فائدہ زیادہ ہے، اسی لیے اس کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔پہلی نارمل ڈیلیوری مشکل ہو سکتی ہے مگر دوسری اور تیسری آسان ہو جاتی ہیں،لیکن سی سیکشن میں معاملہ اس کے برعکس ہے، پہلا سی سیکشن آسان اور بعد کے خطرناک ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر شیر شاہ نے مزید کہا کہ اب کئی مقامات پر تجربہ کارگائناکالوجسٹ کی بجائے ایسے ڈاکٹرز سی سیکشن کر رہے ہیں جو دن میں 10 سے 12 آپریشن کر کے چلے جاتے ہیں۔سی سیکشن کے فوراً بعد بچے کو ماں سے الگ کر دیا جاتا ہے، جس سے بچے کی قوتِ مدافعت متاثر ہوتی ہے،حالاں کہ بچے کے لیے ماں کی گود انتہائی ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک میں مڈوائف نارمل ڈیلیوری کراتی ہیں جس کے نتیجے میں صحت مند مائیں اور بچے سامنے آتے ہیں۔پاکستان میں سی سیکشن کی شرح دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر شبین ناز مسعود نے کہا کہ جیسے جیسے جدید آلات اور گیجٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے ویسے ویسے سی سیکشن کا رجحان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات ڈاکٹرز کا رویہ مریضوں کے ساتھ سخت ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض خود سی سیکشن کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں غیر ضروری ٹیسٹس کی بنیاد پر فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ سی سیکشن کرنا ہے، حالانکہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہوتا۔پہلا سی سیکشن مستقبل کے لیے راستہ بنا دیتا ہے اور اکثر خواتین کو بعد میں بھی اسی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کوائکری اور گھروں میں دائیوں کے ذریعے ڈیلیوری نہایت خطرناک ہے۔ صرف بچہ پیدا کرنا کافی نہیں، بلکہ بچے کی آکسیجن اور ماں کی حالت پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایسے اسپتال کا انتخاب کیا جانا چاہیے جہاں ماں اور بچے دونوں کی مکمل دیکھ بھال ہو۔انہوں نے یہ کہا کہ بدقسمتی سے بعض بڑے اسپتالوں میں سی سیکشن کی تعداد کو ریونیو سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جو ایک غلط اور افسوسناک رویہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بغیر کسی مستند ڈگری کے گائناکالوجسٹ کا بورڈ لگا کر کلینکس چلا رہے ہیں اور پیسہ کما رہے ہیں، میں خود ایسے کئی افراد کو جانتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ حمل کوئی بیماری نہیں، بچے کھیتوں میں بھی پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں غیر ضروری خوف پیدا کر کے خواتین کو سی سیکشن پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک بار عورت کا سی سیکشن کر دیا جائے تو اگلی بار بھی یہی عمل دہرانا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض ڈاکٹرز اپنے وقت کی کمی کی وجہ سے مریضہ پر دباؤ ڈال کر سی سیکشن کے لیے راضی کر لیتے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔
ڈاکٹر بشریٰ محسن کا کہناتھا کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری ہو اور سی سیکشن سے بچا جائے، مگر بعض خواتین میں ایسی پیچیدگیاں ہوتی ہیں جہاں سی سیکشن ناگزیر ہو جاتا
ہے۔انہوں نے کہا کہ گائناکالوجسٹ بھی انسان ہوتا ہے، بعض اوقات مریضہ کے اہل خانہ کی جانب سے مار پیٹ یا توڑ پھوڑ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، جس کے باعث ڈاکٹرز کو مجبوراً سی سیکشن کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos