ایران میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب (8 اور 9 جنوری)مظاہروں کی شدت چندگھنٹوں میں بلندہونے کے بعد اب تک بدستور اونچے درجے پر برقرارہے۔امریکی نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ جمعہ کی شب ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تقریر نے اس ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ تھوڑی دیر بعد، کریک ڈاؤن ناقابل یقین حد تک پرتشدد ہو گیا۔تہران میں جمعے کے روز مظاہرے میں شریک ایک ایرانی سماجی کارکن نے کہا کہ جب حکام نے مظاہرین پر دھاوا بولاگیا تو صورتحال ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئی۔گولیاںاور آنسوگیس کے شیل داغے گئے۔ متعدد افراد نے تہران کی سڑکوں پر بے پناہ ہجوم کے ساتھ ساتھ وحشیانہ تشددکے بارے میں سی این این سے بات کی، ایک خاتون نے کہا کہ اس نے ایک ہسپتال میں ایک دوسرے پر لاشوں کے ڈھیردیکھے۔
جمعرات کے روز جنوب مغربی شہر شیراز کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے رکن کی ویڈیو اور آڈیو پیغام کے مطابق بڑی تعداد میں زخمیوں کو ہسپتال لایا جا رہا تھا اور مریضوں کے اس ہجوم سے نمٹنے کے لیے سرجنز ناکافی تھے۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ بہت سے زخمیوں کو سر اور آنکھوں میں گولیوں کے زخم آئے ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تہران کے ایک اسپتال میں ایک معالج نے کہا کہ نوجوانوں کے سروں پر، ان کے دلوں پر بھی براہ راست گولیاں لگی ہیں، طبی کارکنوں میں سے دو نے بتایا کہ انہوں نے گولیوں سے زخمیوں کے جسموں میں بارود اور پیلٹ دونوں پائے گئے۔بی بی سی فارسی کے مطابق جمعہ کی رات رشت شہر کے پورسینا ہسپتال میں 70 لاشیں لائی گئیں۔ وہاں کا مردہ خانہ پوری گنجائش پر تھا، اس لیے لاشیں اٹھا لی گئیں۔ ہسپتال کے ایک ذریعے نے بتایا کہ حکام نے مرنے والوں کے لواحقین سے 7 ارب ریال مانگے تاکہ تدفین کے لیے ان کے حوالے کیا جا سکے۔
تہران میں ہسپتال کے ایک کارکن نے انتہائی خوفناک مناظربیان کرتے ہوئے کہا کہ اتنے زیادہ زخمی تھے کہ عملے کے پاس سی پی آر کرنے کا وقت نہیں تھا۔تقریباً 38 افراد ہلاک ہوئے۔ بہت سے لوگ ایمرجنسی بیڈ پر پہنچتے ہی چل بسے،نوجوانوں کے سروں اور دلوں پر بھی براہ راست گولیاں لگی تھیں۔ بہت سے تو ہسپتال بھی نہیں پہنچے۔تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مردہ خانے میں گنجائش ختم ہوگئی۔ لاشیں ایک دوسرے کے اوپر رکھ دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ مردہ خانہ بھر جانے کے بعد، انہوں نے انہیں دوسرے کمرے میں ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر کر دیا۔اسپتال عملے کے ایک اہل کارنے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے نوجوان تھے۔ان میں سے بہت سے لوگوں کو نہیں دیکھ پارہاتھا، وہ 20-25 سال کے تھے۔
شمال مشرقی شہر نیشابور میں ایک ایرانی ڈاکٹر نے آڈیو پیغام میں کہا کہ ایرانی حکام نے وہاں کم از کم 30 افرادکو ہلاک کرنے کے لیے فوجی رائفلز کا استعمال کیا۔60 کی دہائی کی درمیانی عمر کی ایک خاتون اور ایک 70 سالہ مرد نے جمعرات اور جمعہ کو ایرانی دارالحکومت کی گلیوں میں ہر عمر کے لوگوں کواحتجاج کرتے دیکھا۔ تاہم، جمعہ کی رات کو، سیکورٹی فورسز نے فوجی رائفلوں کے ذریعے بہت سے لوگوں کوہلاک کر دیا۔
انٹرنیٹ بندش کے دوران مظاہروں کی نوعیت کے بارے میں تہران کے ایک حصے میں مظاہرین کے مطابق انہوں نے 60 سال سے زائدعمر کے ایک ایسے شخص کی مدد کی جو کریک ڈاؤن میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس کی ٹانگوں میں 40 کے قریب چھرے لگے تھے اور اس کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔ اس شخص کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن کہا کہ صورتحال مکمل طور پر افراتفری کا شکار تھی۔ان میں بچے بھی تھے،ایک 5 سالہ بچے کو گولی مار دی گئی جب وہ ماں کی گود میں تھا۔ حملوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے، اورکئی اہگیروں کو بھی گولی لگی۔
ایک 47 سالہ شخص نے بتایاکہ ایسا لگتا ہے انٹرنیٹ کی بندش کا الٹانتیجہ نکلا، کیونکہ بوریت اور مایوسی نے اور بھی زیادہ لوگوں کو سڑکوں پر جانے کے لیے اکسایا۔ہر عمر کے لوگ ، مرد، عورتیں اور بچے احتجاج میں شریک ہیں، لوگ عمارتوں کی کھڑکیوں سے نعرے لگاتے ہیں اور سڑکوں پر بھی بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ تہران کے ایک آنکھوں کے ہسپتال کو ہنگامی صورتحال (کرائسس موڈ) میں جانا پڑا، ایک دوسرے ہسپتال میں کام کرنے والے کارکن کا کہناتھاکہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں سرجنز کی شدید کمی ہے۔ایران سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر، جنھوں نے جمعے کی رات سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے بی بی سی سے رابطہ کیا، بتایا کہ تہران میں آنکھوں کا مرکزی فارابی ہسپتال، ہنگامی حالات میں داخل ہو چکا ہے اور ایمرجنسی سروسز شدید دباؤ میں ہیں۔ غیر ہنگامی داخلے اور سرجریاں معطل کر دی گئی ہیں، ہنگامی کیسز سے نمٹنے کے لیے اضافی عملے کو طلب کیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کو ایران کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جمعرات کی رات مظاہرے کافی پرتشدد تھے اور سکیورٹی اداروں کی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہروں کی ایک بڑی تعداد زخمی اور ہلاک ہوئی۔اس خبررساں ادارے کو دو ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فردس شہر کی ہیں۔ دونوں ویڈیوز ایک ہی شخص نے بنائی ہیں۔ویڈیو بنانے والے شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آج( 8 جنوری )کوفردس میںدیکھیں انھوں نے لوگوں کے ساتھ کیا کِیا۔ رات نو بجے انھوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں۔
یہ دونوں ویڈیوز اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اپلوڈ نہیں کی گئی تھیں اور یہ جمعرات کی رات ایران میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق ہیں۔ان میں آٹھ سے دس افراد کو زمین پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے ، ان کے جسموں سے خون بہہ رہا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد ان افراد کے ساتھ کیا ہوا۔
ویڈیو بظاہر کسی پارکنگ لاٹ میں بنائی گئیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ فیکٹ چیک میں جن ویڈیوز کا جائزہ لیاگیا، ان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے مختلف شہروں میں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos