کراچی:کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن (سی آر اے) نے باغ جناح میں سیاسی جلسے کی کوریج کے دوران صحافیوں پر تشدد اور میڈیا کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ کراچی کے موقع پر باغ جناح میں منعقدہ جلسے کی کوریج کے دوران سیاسی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ اس ہنگامہ آرائی کی زد میں آکر فرائض کی انجام دہی میں مصروف میڈیا نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کئی میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں (DSNGs) اور آلات میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
مشتعل افراد نے سی آر اے کے ممبر صولت جعفری اور آج ٹی وی کی خاتون رپورٹرسمیت 4 کیمرہ مین اور ڈی ایس این جی آپریثرپر بیہمانہ تشدد کیا، جو نہ صرف صحافتی اقدار بلکہ انسانیت کے بھی برخلاف ہے۔
سی آر اے پولیس اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس شرمناک واقعے میں ملوث افراد کو فوری طور پر شناخت کرکے گرفتار کریں اور انہیں عبرتناک سزا دی جائے۔
جن میڈیا ہاؤسز کے کیمرے، ڈی ایس این جی گاڑیاں اور دیگر قیمتی آلات توڑے گئے ہیں، ان کے مالی نقصان کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔
صحافی ہمیشہ غیر جانبداری کے ساتھ کٹھن حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ کسی بھی فریق کی جانب سے انہیں نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت اور پولیس مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔
صحافیوں پر تشدد آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہے ،کراچی پریس کلب
کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے باغِ جناح میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے جلسے کی کوریج کے دوران صحافیوں پر تشدداور میڈیا ہائوسز کی گاڑیوں و ڈی ایس این جیزکی توڑ پھوڑ کے واقعے پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے۔
کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہاکہ وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے دورہ کراچی کے موقع پر باغِ جناح میں منعقدہ جلسے کی کوریج کے دوران پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا،جو آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہے، ہنگامہ آرائی کے دوران صحافیوں، کیمرہ مینوں اور ڈی ایس این جی آپریٹرز پر تشدد اور میڈیا ہائوسز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیاکہ واقعے میں ملوث عناصر کی فوری شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ میڈیا ہائوسز کے ہونے والے مالی نقصان کا فوری ازالہ کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ صحافی غیر جانبداری کے ساتھ عوام کو باخبر رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، ایسے واقعات صحافتی برادری میں عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔ حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستقبل میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کریں۔
کراچی یونین اف جرنلسٹس کے عہدیداروں کی شدید مذمت
کراچی یونین اف جرنلسٹس کے صدر اعجاز احمد، نائب صدور محمد ناصر شریف ،راہب گاہو، جنرل سیکریٹری لنبی جرار، جوائنٹ سیکریٹریز طلحہ ہاشمی، روبینہ یاسمین خازن یاسر محمود و مجلس عاملہ کے اراکین نے کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پر مشتعل افراد کی جانب سے میڈیا پر حملے، صحافیوں، کیمرہ مینوں، عملے پر تشدد اور ڈی ایس ان جیز کو نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ملک میں فسطائیت بڑھتی جارہی ہے۔ یہ گروہ میڈیا پر حملہ آور ہوکر کس طرح خود کو جمہوریت پسند قرار دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صحافیوں، کیمرہ مین ، عملے ، ڈی ایس این جیز کا تحفظ حکومت ، انتظامیہ اور جلسہ کرنے والی جماعت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
میڈیا کو نشانہ بناکر کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی۔ ہم حکومت سندھ و انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا پر حملہ آور عناصر سی سی ٹی وی کے ذریعے شناخت کرکے کل قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos