بھارت کا بدنامِ زمانہ اور خطرناک جرائم پیشہ رحمان ڈکیت بالآخر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکنجے میں آ گیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا کر حوالات منتقل کر دیا ہے۔
ملزم کا اصل نام عابد علی بتایا جاتا ہے جو راجو اور رحمان ڈکیت کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ بھارتی شہر بھوپال کے ایرانی ڈیرہ سے سرگرم ایک منظم، کثیر ریاستی جرائم پیشہ نیٹ ورک کا مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ طویل عرصے تک اس کا نام مختلف ریاستوں میں خوف کی علامت بنا رہا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سورت کرائم برانچ نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر لال گیٹ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے بغیر کسی مزاحمت اور فائرنگ کے ملزم کو گرفتار کیا۔ اطلاعات تھیں کہ وہ بھوپال میں پولیس چھاپے کے بعد فرار ہو کر سورت میں روپوش تھا اور کسی بڑی واردات کی تیاری کر رہا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رحمان ڈکیت کم از کم 14 ریاستوں میں سرگرم مختلف جرائم پیشہ گروہوں کا نیٹ ورک چلا رہا تھا، جو ڈکیتی، جعل سازی، بھتہ خوری، فراڈ، آتش زنی اور اقدامِ قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہا۔ اس کے خلاف مہاراشٹر میں سخت قانون ایم سی او سی اے کے تحت بھی مقدمات درج ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزم اور اس کا گروہ وارداتوں کے دوران اکثر بھیس بدلنے کا سہارا لیتا تھا۔ کبھی خود کو سی بی آئی افسر، کبھی پولیس اہلکار اور بعض اوقات مذہبی شخصیت ظاہر کر کے عوام کو دھوکہ دیا جاتا تھا، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ کا طریقہ واردات فلم ’اسپیشل 26‘ سے مشابہ تھا، جہاں جعلی سرکاری چھاپوں کے ذریعے شہریوں کو لوٹا جاتا تھا۔ ہر جرم باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جاتا اور گرفتاری کی صورت میں بھی ملزمان نیٹ ورک سے متعلق معلومات فراہم نہیں کرتے تھے۔
اتوار کے روز نشاط پورہ پولیس ملزم کو پروڈکشن وارنٹ پر بھوپال لے گئی، جہاں عدالت نے اسے 17 جنوری تک پولیس ریمانڈ پر دے دیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos