ہمالیہ پر23سال کی کم ترین برف باری۔جنوبی ایشیاپرکیااثرات ہوں گے؟

 

ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف باری کی کمی نے جنوبی ایشیا کے لیے شدید خطرات پیداکردیئے ہیں۔ماہرین موسمیات کے مطابق ہمالیہ پر سردیوں میں بہت کم برف پڑ رہی ہے، جس کے باعث اس موسم میں خطے کے کئی حصوں میں پہاڑ ننگے اور پتھریلے ہو جاتے ہیں، جب انہیں برف پوش ہونا چاہیے۔ ہمالیائی خطے کے بہت سے حصوں میں موسم سرما کے دوران اسے’’برف کی خشک سالی‘‘کہا جاتا ہے۔

شمال مغربی ہمالیہ میں 40 سالہ اوسط (1980-2020) کے مقابلے میں گزشتہ پانچ سال میں برف باری 25 فیصد کم ہوئی ہے۔انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (ICIMOD) کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2024-2025 کے موسم سرما میں 23 سال کی کم ترین برف باری معمول سے تقریباً 24 فیصد کم رہی۔اس میں کہا گیا ہے کہ 2020 اور 2025 کے درمیان گزشتہ پانچ سردیوں میں سے چار میں ہندو کش ہمالیہ کے علاقے میں معمول سے کم برف باری دیکھنے میں آئی۔

HKH Snow Update 2025 ہندوکش ہمالیہ کے پورے خطے میں موسمی برف میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے مطابق برف باری معمول سے23 اعشاریہ 6 فی صد،23 سال میں سب سے کم ہے۔ یہ رجحان، اب اپنے مسلسل تیسرے سال میں، تقریباً 2 ارب لوگوں کے لیے پانی کے تحفظ کو خطرہ بنا رہا ہے۔ تمام بارہ بڑے دریا ئوںکے طاس، بشمول سندھ، گنگا، اور برہم پترا، نے اوسط سے کم برف باری کا تجربہ کیا۔ میکونگ اور سلوین کے طاسوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

دسمبر میں تقریباً تمام شمالی بھارت میں کوئی بارش،بارش اور برف باری ، ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ شمال مغربی بھارت کے بہت سے حصوں بشمول اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش ریاستوں،وفاقی زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں جنوری اور مارچ کے درمیان اوسط سے 86 فیصد کم بارش اور برف باری ہوگی۔ نیپال، جس کے اندر وسطی ہمالیہ واقع ہے، میں بھی موسم سرما کی بارش میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

زیادہ تر ماہرین موسمیات نے صورت حال کے لیے کمزور مغربی رکاوٹوں کا حوالہ دیا ہے ،مغربی رکاوٹیں ہمالیہ میں موسم سرما کی زیادہ تر بارشوں کے لیے ذمہ دار ہیں۔سردیوں (دسمبر تا مارچ) کے دوران یہ مغربی رکاوٹیں،مغربی ہمالیہ کے ساتھ ساتھ شمالی بھارت، پاکستان اور تبتی سطح مرتفع کے آس پاس کے علاقوں میںزیادہ تر بارشیں یا بارش اور برف باری دونوں لاتی ہیں،جس سے فصلوں کو مدد ملتی ہے اور پہاڑوں پر برف بھر جاتی ہے۔ سردیوں کے مہینوں (دسمبر سے مارچ) کے دوران مغربی رکاوٹیں پاکستان، شمالی ہندوستان، شمالی افغانستان اور تاجکستان کے پہاڑی سلسلوں مغربی ہمالیہ، قراقرم، ہندو کش، اور پامیرمیں بہت زیادہ بارش لاتی ہیں۔وہ دریائے سندھ اور گنگا دونوں طاسوں کے آبی تحفظ کا ایک اہم جز ہیں۔

سردیوں میں کم بارش،پانی کی فراہمی پر اثر انداز ہونے کے علاوہ،اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خشک حالات کی وجہ سے خطے میں جنگل کی آگ لگنے کا خطرہ ہے۔

رپورٹ میں ممکنہ زیر زمین پانی پر انحصار میں اضافہ، اور خشک سالی کے بڑھتے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔ نتائج کی روشنی میں، رپورٹ فوری کارروائی پر زور دیتی ہے جس میں پانی کے بہتر انتظام، خشک سالی کی تیاری، بہتر قبل از وقت وارننگ سسٹم، اور علاقائی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ طویل مدتی تیاری کے لیے سائنس کی زیرقیادت پالیسیوں اور پانی کو ذخیرہ کرنے اور پگھلنے والے پانی کے موثر استعمال میں سرمایہ کاری کی ضرورت تی ہے۔

گلوبل وارمنگ کے تناظر میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ایک طویل عرصے سے برصغیرکی ہمالیائی ریاستوں اور خطے کے دیگر ممالک کو درپیش ایک بڑا بحران ہے۔ سرما کے دوران کم برف باری معاملات کو مزید خراب کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برف میں کمی سے نہ صرف ہمالیہ کی شکل میں تبدیلی آئے گی بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں اور خطے کے کئی ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوں گے۔

جیسے جیسے موسم بہار میں درجہ حرارت بڑھتا ہے، سردیوں کے دوران جمع ہونے والی برف پگھلتی ہے اور اس کے بہنے سے دریائی نظام کو خوراک ملتی ہے۔ یہ پگھلی ہوئی برف خطے میںپینے، آبپاشی اور پن بجلی کے لیے پانی فراہم کرنے کے ذمہ دار دریاؤں اور ندیوں کے لیے ایک اہم ذریعہ بنتی ہے۔ گلیشیئرزکا معدوم ہونا اور برف باری کی شرح میں گراوٹ پہاڑوں کو غیر مستحکم کرتی ہے کیونکہ وہ برف کو کھو دیتے ہیں جو انہیں برقرار رکھنے کے لیے سیمنٹ کا کام کرتے ہیں۔ چٹانوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور تباہ کن ملبے کے بہاؤ جیسی آفات پہلے ہی عام ہوتی جا رہی ہیں۔

سائنس دانوں کو جلد یا بدیر پتہ چل سکتا ہے کہ موسم سرما کی بارش میں کمی کے پیچھے کیا ہےلیکن جو بات واضح ہو رہی ہے وہ یہ کہ ہمالیائی خطے کو اب دہری مصیبت کا سامنا ہے۔
یہ تیزی سے اپنے گلیشیئرز اور آئس فیلڈز کو کھو رہا ہے تو اس میں برف بھی کم پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس امتزاج کے بہت بڑے نتائج ہوں گے۔

2025 میں شائع ہونے والے ایک اور مطالعہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمالیائی خطہ برفانی خشک سالی دیکھ رہا ہے – خاص طور پر3ہزار اور6 ہزارمیٹر کی بلندی کے درمیان برف نمایاں طور پر کم ہوتی جارہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے سے پانی کی طویل مدتی کمی کے خطرات لاحق ہیں، برف باری میں کمی اور برف پگھلنے سے قریبی مدت میں پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔