فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

ایران : سزائے موت کے خوف سے فسادی پسپا ہونے لگے

میگزین رپورٹ :
سزائے موت کے خوف سے ایران میں مظاہرین پسپا ہونے لگے۔ تہران پراسیکیوٹر کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد افراد پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے، جن میں سے بڑی تعداد کو سزائے موت ملنے کا قوی امکان ہے۔ ریاست کے اس سخت گیر رویے نے تہران کے بعض علاقوں میں سناٹا طاری کردیا ہے۔

موساد ایجنٹوں کے خلاف موثر کریک ڈائون اور بیلسٹک میزائلوں کا رخ اسرائیل کی جانب موڑنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ پر ایک بار پھر شدید خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی خبر سامنے آنے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے خیبر شکن اور شہاب میزائلوں کو فائرنگ پوزیشن پر منتقل کردیا ہے۔ جس کے سیٹلائٹ مناظر نے عالمی طاقتوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

تہران کے اس جارحانہ اقدام کو حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں فوری حملے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیر ِخارجہ مارکو روبیو کے درمیان ہنگامی اور طویل ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ جس میں ایران کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ عسکری حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق روبیو نے اسرائیل کو امریکی دفاعی تعاون کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ایرانی مہم جوئی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔ اس گفتگو کے بعد اسرائیل نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور بن گوریان ایئرپورٹ سمیت تمام حساس تنصیبات پر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کردیے ہیں۔

صہیونی افواج نے تمام فضائی دفاعی نظام بشمول آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرواز کو فعال کردیا ہے۔ جبکہ تمام فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں کو وار ریڈی موڈ پر رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے ریزرو دستوں کو ہنگامی طور پر طلب کرلیا ہے اور شمالی و جنوبی کمانڈز کو کسی بھی ممکنہ در اندازی یا میزائل بوچھاڑ کیلئے تیار رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر کے گلی کوچوں میں اس وقت ریاست کا آہنی ہاتھ پوری قوت سے متحرک ہے۔ جہاں سیکیورٹی فورسز مظاہرین کو گلیوں میں تعاقب کر کے پکڑ رہی ہیں۔

تہران پراسیکیوٹر کے حالیہ اعلان نے اس کریک ڈاؤن کو قانونی جواز فراہم کر دیا ہے، جس کے تحت مسلح مزاحمت یا املاک کو نقصان پہنچانے والے ہرفرد کو سر عام پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تہران کے مرکزی چوکوں سے لے کر مضافاتی بستیوں تک نیم فوجی دستے اور اینٹی رائٹ فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کے بجائے ان کا گھیراؤ کر رہی ہیں۔

گزشتہ چند گھنٹوں میں تہران، تبریز اور مشہد جیسے بڑے شہروں میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انقلابی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ہنگامی بنیادوں پرشروع کردی گئی ہے، تاکہ محاربین کو عبرتناک سزائیں دیکر باقی ماندہ مظاہرین کو گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ سرکاری ٹی وی پر مسلسل دکھائی جانے والی فوٹیجز میں سیکورٹی فورسز کی کامیابیوں اور مظاہرین کے پیچھے ہٹنے کے مناظر اس بات کی علامت ہے کہ تہران اب مکمل طور پر ریاستی گرفت میں واپس آچکا ہے۔

دوسری جانب سیکورٹی اداروں نے ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کیلئے کام کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے متعدد کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ جو حالیہ عوامی مظاہروں کی آڑ میں فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے اور اس کا ملبہ ریاست پر ڈالنے کی منظم سازش کر رہے تھے۔ گرفتار ایجنٹوں کے قبضے سے جدید ترین جاسوسی آلات، دھماکہ خیز مواد اور ممنوعہ اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

ادھر ایرانی سیکورٹی فورسز نے عراق سرحدی پٹی پر ایک بڑی فوجی کارروائی کے دوران ملک میں تخریب کاری کی غرض سے داخل ہونے والے مسلح کرد جنگجوؤں کے ایک جتھے کو جھڑپ کے بعد پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ جس سے سرحد پار دراندازی کی ایک منظم کوشش ناکام ہو گئی۔ ان کرد عناصر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بھاری خودکار اسلحے، دستی بموں اور جدید ترین مواصلاتی آلات کے ساتھ ایرانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران نے بیک وقت اندرونی بغاوت کو کچل کر اور بیرونی محاذ پر میزائلوں کی زبان میں بات کرکے ثابت کر دیا ہے کہ تہران کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ اب گیند واشنگٹن اور تل ابیب کے کورٹ میں ہے۔ جہاں ایک غلط فیصلہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔