فائل فوٹو
فائل فوٹو

سہیل آفریدی کو دہشت گردوں سے اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان تشریف لے جائیں ، طلال چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعلی ہو یا عام رہنما، قومی بیانیے کے مخالف کوئی گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں سے اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان تشریف لے جائیں، آپ سیاسی تحریک 100 دفعہ چلائیں، لیکن پاکستان کے خلاف رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے 1200 سے زائد لوگ شہید ہوچکے ہیں،60 سے 70 فیصد واقعات کے پی میں ہوئے ہیں، کتنا خون چاہیے اور کہ آپ کی غیرت جاگے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجنا نہیں چاہتی، اسٹریٹ موومنٹ چلانا ضروری ہے یا صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا۔اُن کا کہنا تھا کہ  گزشتہ سال دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں، صوبے کے ایک ضلع میں بھی سیف سٹی نہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تنظیمیں موجود ہیں، صوبائی حکمران غیر قانونی افغانیوں کو واپس نہیں بھیجنا چاہتے، پی ٹی آئی کا ترجمان کھل کر دہشت گردوں کی مذمت نہیں کرتا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا نے دانستہ فارنزک لیب نہیں بنائی، جان بوجھ کر انسداد دہشت گردی کے اداروں پر پیسے خرچ نہیں کیے، کیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اب تک پتا نہیں کہ دہشت گردی کہاں سے ہو رہی ہے؟اُن کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے آپ 3 صوبوں میں گئے، کسی اسٹریٹ میں کیا آپ کو کسی شہید کا گھر نہیں ملا کہ اس کے ساتھ بھی کھڑے ہوتے۔

طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی ہے کہ قومی پالیسی پر ابہام پیدا کرتے ہیں، ہمارے 2 ہمسائے ایک انویسٹ کررہا ہے دوسرا دہشت گردی کو سپورٹ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نےکہا کہ افغانستان کو دہشت گردی کے ثبوت دینے چاہئیں، کتنے ہی ممالک نے یہ بات کی کہ افغانستان سے دہشت گردی ہورہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور ٹریننگ کیمپ افغانستان میں ہیں، ابہام کیوں پیدا کررہے ہیں، دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ اور گوشے کی کوئی تو وجہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 11سال سے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار وزیر یا مشیر پر حملہ نہیں ہوا، خیبر پختو نخوا میں پی ٹی آئی کے سوا دیگر سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں ہوتی ہیں، وہاں ٹریننگ کیمپس ہیں، صوبائی حکومت کہتی ہے آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کا ترجمان آج بھی سیکیورٹی فورسز کیساتھ کھڑے ہونے کی بات نہیں کرتا، جہاں بھی آپ گئے آپ نے قومی بیانیے کے مخالف پوزیشن لی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی ہی کے ایک وزیراعلیٰ نے آئی جی کو کہا تھا کہ اگر ہم دہشت گردوں سے لڑے تو پیپلز پارٹی اور اے این پی بن جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔