فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

درجنوں پاکستانی ایران میں پھنس گئے

محمد قاسم :

ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث درجنوں پاکستانی شہری تہران سمیت دیگر ایرانی شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر تعداد زائرین اور تاجروں کی ہے۔ پھنسنے والوں میں خیبرپختونخوا کے شہری بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سے جانے والے افراد کاروباری سرگرمیوں اور مقدس مقامات کی زیارت کیلئے ایران گئے تھے۔ تاہم ایک دم سے احتجاج شروع ہوجانے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہونے کے بعد پاکستانی شہری ایران میں ہی پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ ایران میں کشیدگی کے باعث دو طرفہ تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ خاص کر بلوچستان کے راستے ایران کے بارڈر پر ہونے والی تجارت بھی رک جانے کی اطلاعات ہیں اور ڈرائی فروٹ سمیت مختلف اقسام کے خشک دودھ ،کمبل،قالین اور دیگرسامان کی ایران سے پاکستان سپلائی بند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے جہاں ایران کے تاجروں کو بھاری نقصان ہورہا ہے، وہیں پاکستانی کاروباری افراد کو بھی مالی خسارے کا سامنا ہے۔

افغانستان کے بعد ایران کے ساتھ بھی تجارت رک جانے سے کاروبار بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور تجارت نہ ہونے کی وجہ سے بارڈر کے اطراف محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی بیروزگار ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد شہری وہاں مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔ یہ شہری کاروباری سرگرمیوں اور مقدس مقامات کی زیارت کیلئے گئے تھے تاہم حالیہ ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے بعد ان کی واپسی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق ایران میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد پاکستانی شہریوں کی آمد و رفت جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں سرحدی نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی ہے اور اس صورتحال نے خاص طور پر مقدس مقامات کی زیارت کے لئے جانے والے افراد کو متاثر کیا ہے جو مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں ۔ ایران میں حالات کی غیر یقینی کیفیت کے اثرات پشاور کی مقامی معیشت پر بھی پڑے ہیں اور ایرانی کرنسی کی خرید و فروخت ختم ہو چکی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے ایرانی کرنسی کا کاروبار مکمل طور پر جمود کا شکار ہے جبکہ افغانی کرنسی کا کاروبار پہلے ہی پشاور میں بند ہو چکا ہے۔

پشاور کی چوک یادگار سمیت دیگر مقامات پر مارکیٹوں پر افغانی کرنسی کا کاروبار کرنے والے ڈیلر ز نے متبادل کاروبار شروع کر دیئے ہیں۔ اب جبکہ ایران میں صورتحال کشیدہ ہے اس لئے ایرانی کرنسی کا کاروبار بھی بند ہو گیا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پشاور میں ایرانی قونصل خانے کی طرف جانے والے راستوں پر بھی سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور سفارتی عملے کی حفاظت کیلئے بھی خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔

ایران میں مخدوش صورتحال کی وجہ سے خاص کر پشاور کی ڈرائی فروٹ مارکیٹ میں کاروبار شدید متاثر ہوا ہے اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے آنے والا ڈرائی فروٹ جو ایران کے بارڈر سے آسانی کے ساتھ کوئٹہ پہنچ جاتا تھا اور وہاں سے پشاور پہنچایا جاتا کی ترسیل بھی رک چکی ہے جس سے تاجرو ں کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔

ڈرائی فروٹ کے کاروبار سے وابستہ ایک تاجر محمد عدیل نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرتے رہے ہیں تاہم جب پاکستان کی حکومت نے افغانستان کی سرحدات کو بند کر دیا تو ان کا کاروبار چمک اٹھا اور انہیں امید ہو گئی کہ اس بار سیزن اچھا رہے گا۔ لیکن ایران میں حالیہ کشیدہ صورتحال اور احتجاج کی وجہ سے جو اچھے کاروبار اور آمدن کی امید تھی اس نے دم توڑ دیا ہے۔ کیونکہ نہ تو وہ ایسی صورتحال میں ایران جا سکتے ہیں اور نہ ہی ایران سے کوئی سامان پاکستان آسکتا ہے جس سے ان کا کاروبار بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔

جبکہ ایران کے ساتھ کمبل اور قالین کا کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ سردی کا سیزن کشیدہ حالات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ ایران میں مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے جو آرڈر انہوں نے دیئے تھے وہ کینسل کر دیے گئے ہیں اور وہاں کے بڑے تاجرخود اپنے کاروبار کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔