بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں 20 انسان مارنے والا خونی ہاتھی کہا ں گیا؟

 

مشرقی بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ایک بدمست جنگلی ہاتھی نے بڑے پیمانے پر سراسیمگی اور خوف وہراس پھیلادیاہے۔اکیلا نر ہاتھی یکم سے 9 جنوری کے درمیان مغربی سنگھ بھوم ضلع کے چائباسا اور کولہن جنگلاتی علاقوں میں کم از کم 20 لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے، جو ایشیا میں سال کے درختوں کا سب سے بڑا جنگل ہے۔اب یہ 4 دن سے غائب ہے۔

محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے بتایا کہ گزشتہ چار دنوں میں کوئی حملہ نہیں ہوا اور ہاتھی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ۔

 

محکمہ جنگلات کا ایک رکن بھی ہاتھی کے شکار میں شامل تھا، جس نے چھوٹے بچوں اور بوڑھے دیہاتیوں کی جانیں لی ہیں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چندن کمار نے بتایا کہ مرنے والوں میں فارسٹ اہلکار بھی شامل ہے۔ زیادہ تر واقعات رات کے وقت پیش آئے جب لوگ چاول کی حفاظت کے لیے کھیتوں میں موجود تھے۔

 

چائباسا کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر آدتیہ نارائن نے کہاکہ وحشی ہاتھی کی حرکتیں بہت ہی بے ترتیب ہیں۔ گزشتہ چار دنوں میں کوئی زخمی یا موت کی اطلاع نہیں ، اور ہاتھی کو بھی نہیں دیکھا گیا ہے۔اس ہاتھی کے حملوں نے جوتباہی مچائی،ایسی کوئی مثال پہلے موجودنہیں تھی۔ افسر جنگلات نے کہاکہ مجھے یاد نہیں کہ ماضی قریب میں کچھ دیکھا ہو۔نہوں نے مزید کہا کہ اس نے چائی باسا ڈویژن میں 13 اور کولہان میں 7 افراد کو ہلاک کیا۔

 

فارسٹ حکام کے مطابق یہ ہاتھی نوجوان، پھرتیلا اور رات کے وقت بار بار جگہ تبدیل کر لیتا ہے اور اسی وجہ سے اسے پکڑا نہیں جا پا رہا۔

 

محکمہ جنگلات نے قاتل جانور کو پکڑکر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے 100 کے قریب اہلکار تعینات کیے ہیں۔ پڑوسی ریاست مغربی بنگال کے ماہرین کو بھی ان کوششوں میں شامل کیا گیا ہے۔

 

ڈویژنل فاسٹ افسر کلدیپ مینا نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ان کے مطابق علاقے میںایک ہی نرہاتھی سے جڑی اتنی زیادہ اموات کا ایسا واقعہ پہلی بار پیش آیا ہے۔‘

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔