ایرانی اسٹیبلشمنٹ بحران سے نمٹنے میں کامیاب ہوگئی؟ٹرمپ کے آپشنز کاگورکھ دھندہ

 

ایران کے ملک گیر مظاہروں اور برسوں کے بیرونی دباؤ کے باوجود، ایرانی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ابھی تک ٹوٹ پھوٹ کے کوئی آثار نہیں جو دنیا کی سب سے زیادہ لچکدار حکومتوں میں سے ایک کا خاتمہ کر سکے۔

 

برطانوی خبررساں ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کاکہناکہ ایران کے لیے’’تمام آپشنز‘‘ ٹرمپ کے پاس ہیں۔دو سفارت کاروں، مشرق وسطیٰ کے دو سرکاری ذرائع اور دو تجزیہ کاروں نےروئٹرز کو بتایاکہ جب تک سڑکوں پر بدامنی اور غیر ملکی دباؤ کسی تبدیلی کا باعث نہیں بن جاتی، اسٹیبلشمنٹ اگرچہ کمزور پڑ گئی ہے، لیکن امکان ہے کہ وہ قائم رہے گی۔

 

ایک ایرانی نژاد امریکی ماہر تعلیم اور علاقائی تنازعات اور امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر ولی نصر نے کہا کہ پاسداران انقلاب اور بسیج نیم فوجی دستوں کے ذریعے ایران کا تہہ دار حفاظتی ڈھانچہ، جس کی مجموعی افرادی قوت10 لاکھ کے قریب ہے، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے بغیر بیرونی دبائو اثراندازہونا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کامیابی کے لیے سڑکوں پر زیادہ لمبے عرصے تک ہجوم رکھنا ، ریاست میں ٹوٹ پھوٹ ، کچھ مخصوص ریاستی طبقات اور خاص طور پر سیکورٹی فورسز کو متاثر کرناضروری ہے۔نصر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ زوال کے لمحےتک نہیںپہنچی لیکن اب آگےکاراستہ بہت مشکل ہے۔

 

روئٹرزکے مطابق ،86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی ماضی میں بدامنی کی کی کئی لہروں سے نمٹ چکے ہیں۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے پال سیلم نے کہا کہ 2009 کے بعد سے یہ پانچویں بڑی بغاوت ہے، جو قیادت کی لچک اور ہم آہنگی کا ثبوت ہے یہاں تک کہ حکومت ایک گہرے، تاحال غیر حل شدہ داخلی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

ایک سابق امریکی سفارت کار اور ایران کے ماہر ایلن آئر نے کہا ہےکہ یہ صورت حال تبدیل کرنے کے لیے درکارمومینٹم پیداہوناچاہیے جس کے لیے مظاہرین کو ریاست کے مضبوط پہلووں پرغلبہ حاصل کرنا پڑے گا۔

بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیرمی بوون کا کہناہے کہ ایرانی مظاہرین اور بیرون ملک ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں حکومت اچانک گرنے کے مرحلے پر ہے لیکن آثار یہ ہیں کہ یہ رجیم اگرڈوب رہا ہے، تو اب بھی یہ عمل بتدریج ہے۔اگرچہ ایرانی حکومت بہت زیادہ دباؤ میں ہے،پھربھی یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ گرنے والی نہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بقا ، استحکام کے برابر نہیں ۔ ایران کو 1979 کے بعد سے اپنے شدید ترین چیلنجوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ پابندیوں نے معیشت کا گلا گھونٹ دیا جس میں بحالی کا کوئی واضح راستہ نہیں۔ تزویراتی طور پر، یہ اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ میں ہے، اس کا جوہری پروگرام تنزلی کا شکار ہے، اس کے علاقائی محور مزاحمت پراکسی مسلح گروپ لبنان، شام اور غزہ میں کمزور ہو گئے ہیں۔

 

ایک سفارت کار اور تین تجزیہ کاروں کے مطابق ’’وینزویلا ماڈل‘‘ کا خیال واشنگٹن اور یروشلم کے کچھ حلقوں میں بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایران کی اعلیٰ اتھارٹی کو ہٹاکر باقی ریاستی حکام کو اشارہ دے گا کہ اپنی جگہ پر رہیں، بشرطیکہ وہ تعاون کریں۔لیکن اسے ایران کے لیے بروئے کار لانے میں زبردست رکاوٹیں ہیں۔ کیوں کہ ایرا ن کئی دہائیوں سے مستحکم ایک سیکورٹی ریاست ہے، اس میں گہری ادارہ جاتی ہم آہنگی اور وینزویلا سے کہیں زیادہ بڑا اورپیچیدہ ملک ہے۔

 

دو علاقائی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں میں سے دو نے بتایا کہ غیر ملکی فوجی کارروائی ایران کو نسلی اور فرقہ وارانہ تفریق میں ڈال سکتی ہے، خاص طور پر کرد اور سنی بلوچ علاقوں میں جن کی مزاحمتی تاریخ ہے۔

 

ٹرمپ کے پاس آپشنزمیں ایرانی تیل کی ترسیل پر سمندری دباؤ سے لے کر ہدفی عسکری حملے یا سائبر حملوں پر مشتمل ہیں، اوران سب میںسنگین خطرات ہیں۔واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ماکووسکی نے کہاکہ ٹرمپ کبھی فیصلوں میں تاخیر کے لیے، کبھی مخالفین کو روکنے کے لیے، اور کبھی یہ اشارہ دینے کے لیے کہ وہ درحقیقت مداخلت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، دھمکیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ یہاں ان کا کون ساطریقہ لاگو ہوتا ہے۔

 

عرب میڈیاکے مطابق ،منگل کو مشی گن کا دورہ کرتے ہوئے، ٹرمپ سے صحافیوں نےجب یہ پوچھا کہ امریکہ ایران کو کس قسم کی مدد فراہم کر سکتا ہے تو ان کا کہناتھاکہ اس کا اندازہ لگانا پڑے گا۔

 

امریکی حکام نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، صدر کومتعدد آپشنز پیش کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ٹرمپ کے ملاحظے کے لیے فوجی حملے کے آپشنز بھی تیار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس عمل کو کب آگے بڑھانا ہے یا،اور بڑھانابھی ہے یا نہیں۔

 

سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکہ بہت سخت اقدام کرے گا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایرانی حکومت کم از کم ایک پھانسی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب نے مظاہرین پر دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ قصوروار پائے گئے انہیں سزائے موت دی جائے گی۔

 

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق،ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو پھانسی پر لٹکانا شروع کرتی ہے تو امریکہ انتہائی سخت کارروائی کرے گا، لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائیاں کیا ہوں گی۔

 

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس معاملے کا انجام کیا ہے، تو امریکی صدر نے کہاکہ انجام کھیل کو جیتنا ہے، مجھے جیتنا پسند ہے۔اور پوچھاگیا کہ جیتنےکا کیا مطلب ہے،توانہوں نے اپنی پہلی اور دوسری مدت کے فوجی آپریشنز کی ایک فہرست پیش کی۔ہم نہیں دیکھنا چاہتے کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے۔ اور اگر وہ ہزاروں لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں، اور اب آپ مجھے پھانسی کے بارے میں بتا رہے ہیں – ہم دیکھیں گے کہ یہ ان کے لیے کیسا ثابت ہوگا،یہ ان کے لیے اچھانہیں ہو گا۔

 

سی این این کے مطابق مشی گن سے واپسی پر ٹرمپ کا کہناتھاکہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا ردعمل کیا ہوگا۔انہوں نے کہا میں بالکل جانتا ہوں کہ یہ کیا ہوگا لیکن میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔