کراچی: روزنامہ امت کے گروپ ایڈیٹر، سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے سابق نائب صدر سجاد عباسی کی تصنیف “صحافت بیتی” کی تقریبِ پذیرائی گذشتہ روز کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے نامور صحافیوں، کالم نگاروں، تجزیہ نگاروں، اساتذۂ صحافت، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہال شرکا سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، اور شرکاء کی دلچسپی اخر وقت تک برقرار رہی ۔
تقریب کی صدارت معروف سینئر صحافی اور استادِ صحافت انور سن رائے نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی تھے۔ نظامت کے فرائض سینئر صحافی اور پریس کلب کے سابق سیکریٹری عامر لطیف نے انجام دیئے۔ ممبر گورننگ باڈی عبد الجبار ناصر نے تلاوتِ قرآن پاک سے تقریب کا آغاز کیا، جس کے بعد صاحب کتاب سجاد عباسی نے کتاب کا تعارف پیش کیا جس میں سینئر صحافیوں محمود شام، عارف الحق عارف،انور سن رائے،نذیر لغاری،مظہر عباس،وسعت اللہ خان اور زاہد حسین کی طویل صحافتی خدمات اور جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ “صحافت بیتی” محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان میں صحافت کے ارتقاء، اسے درپیش مشکلات، دباؤ، قربانیوں اور اصولی جدوجہد کی ایک مستند دستاویز ہے اور دستاویز کو کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کتاب میں جن واقعات اور شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے وہ آنکھوں دیکھے اور عملی تجربات پر مبنی ہیں، جو اسے عام کتابوں سے منفرد بناتے ہیں۔تقریب کے صدر انور سن رائے نے کہا کہ سجاد عباسی نے یہ کتاب دل کی روشنی میں لکھی ہے۔ یہ ایک عملی کتاب ہے، نظریاتی نعرہ نہیں۔ جو نوجوان اس کتاب کو پڑھ لے، اس کے لیے صحافت کے میدان میں چلنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔ یہ کتاب صحافت کے طلبہ کے لیے نصابی حیثیت رکھتی ہے۔
کراچی پریس کلب کے صدر اور تقریب کے مہمان خصوصی فاضل جمیلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت بیتی آنے والے وقت میں صحافت کی تاریخ کا حوالہ بنے گی اور یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحافت محض خبر کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت ہے۔دیگر مقررین زاہد حسین، نصیر ہاشمی، نواب قریشی، شاہد جتوئی اور ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ کتاب میں صحافتی جدوجہد کے وہ پہلو بیان کیے گئے ہیں جو عموماً نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، جن میں دباؤ، سنسرشپ، معاشی مسائل، ادارہ جاتی مشکلات اور صحافیوں کی جدوجہد شامل ہے۔جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان نے کہا کہ صحافت معاشرے کی آنکھ اور ضمیر ہے اور “صحافت بیتی” اس کردار کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کتب معاشرے میں شعور بیدار کرنے اور حقائق عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پریس کلب کے سابق سیکرٹری مقصود یوسفی اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری نے کہا کہ سجاد عباسی نے صحافی برادری کے مسائل اور جدوجہد کو دیانت داری سے اجاگر کیا ہے، جو ہر صحافی کی آواز ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کو صحافت کے تعلیمی اداروں میں بطور حوالہ شامل کیا جانا چاہیے۔
تقریب سے عامر لطیف ،احمد خان ملک،پریس کے نائب صدر ارشاد کھوکھر، گورننگ باڈی کے ارکان شیماصدیقی،جاوید صباء، سینئر صحافی ابن آس ، کے یوجے کے سیکرٹری لیاقت کشمیری،عابد حسین۔عبدالمجید ندیم، منور راجپوت، عارف بلوچ،ندیم محمود، عارف ہاشمی،خورشیداحمد ، نسیم شاہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور کتاب کو صحافتی اقدار کے تحفظ کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا۔
آخر میں مصنف سجاد عباسی نے تقریب میں شریک معزز مہمانوں، صحافیوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “صحافت بیتی” لکھنے کا مقصد نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ صحافت محض شہرت یا ملازمت کا نام نہیں بلکہ ایک کٹھن مگر باوقار مشن ہے۔ تقریب کے اختتام پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos