اسلام آباد: وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ پاکستان ، سعودی اورترکیہ کا دفاعی معاہدہ پائپ لائن میں ہے۔
رضا حیات ہراج نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکییہ نے تقریباً ایک سال کی بات چیت کے بعد ایک دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ پچھلے دو سال میں علاقائی تشدد کے خطرے سے نمٹنے کیلیے مدد کی تلاش میں تھے۔
ہراج نے ایک روز قبل بتایا کہ تینوں علاقائی طاقتوں کے درمیان ممکنہ معاہدہ گزشتہ سال اعلان کردہ دو طرفہ سعودی پاکستان دفاعی معاہدے سے الگ ہےا۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے تینوں ریاستوں کے درمیان حتمی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
ہراج نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان-سعودی عرب اورترکیہ سہ فریقی معاہدہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے ہی پائپ لائن میں ہے۔ معاہدے کا مسودہ پہلے سے ہی پاکستان اور سعودی عرب کے پاس موجود ہے۔ معاہدے کا مسودہ ترکیہ کے پاس پہلے سے ہی موجود ہے۔ تینوں ممالک غور و خوض کر رہے ہیں۔
آج استنبول میں ایک پریس کانفرنس میں تینوں فریقوں کے درمیان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ مذاکرات ہوئے ہیں لیکن کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے انکشاف کیا تھا کہ ترکیہ نے بھی پاک سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق یہ انکشاف اس معاملے سے باخبر افراد نے کیا ہے۔ بلوم برگ کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔
اس معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب نے پچھلے سال ستمبر میں دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک بھی ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے اور ترکیہ پہلے سے نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos