تصویر: سوشل میڈیا

کراچی میں پارک سے اغوا 3سالہ بچہ4 دن بعد بحفاظت بازیاب

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے الفتح فیملی پارک سے 11 جنوری کو لاپتہ تین سالہ بچے کو جمعرات کو رات دیر گئے بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔حکام کے مطابق ڈی ایس پی کمال نسیم کو بچے کی بازیابی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور انہیں پولیس ٹیم کی قیادت کے لیے مقرر کیا تھا، کامیاب آپریشن کے بعد انہوں نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑدیا۔ نسیم ان پانچ ڈی ایس پیز میں شامل تھے جنہیں آئی جی سندھ نے ان کے عہدوں سے ہٹایا تھا۔

3سالہ انس کو اتوار کو اغوا کیا گیا اور اس کا مقدمہ حیدری پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ ایس ایچ اوحیدری کا کہنا تھا کہ گھر والوں کو بچے کے ٹھکانے کے حوالے سے کال موصول ہونے کے بعد، انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا، جس نے بچے کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے بحفاظت بازیاب کرایا۔پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد بچے کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ،اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بچہ انس جن لوگوں کے پاس تھا انہوں نے ویڈیو کال پر بات کروائی اور بتایا کہ وہ غلطی سے لے گئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ جن لوگوں کے پاس تھا ٹیم ان کے گھر پہنچ گئی ، انہوں نے بچے کے چچا کو ڈائریکٹ کال کی، تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بچے کے چچا کا نمبر کالر کے پاس کیسے تھا، جان پہچان کے لوگ ہیں یا پھر انس کو اغوا کیا گیا۔

قبل ازیں، بچے کے لاپتہ ہونے کے بعد منظر عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک خاتون اور ایک مرد کو بچے کو لے جاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اتوار کے روز انس فیملی اور دیگر بچوں کے ساتھ ایم پی آر کالونی، اورنگی ٹاؤن پارک میں تھا۔مبینہ طور پر بچہ پارک میں کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگیا، جس پر اہل خانہ نے فوری طور پر تلاش شروع کی، جو کہ ناکام ثابت ہوئی۔ شکایت کنندہ نے پولیس کو بتایا کہ گھر والوں نے شام کو کافی تلاش کی لیکن انہیں انس پارک اور اس کے آس پاس کہیں نہیں ملا۔

حیدری پولیس نے بچے کے رشتہ دار کی شکایت پر نامعلوم خاتون اور مرد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ حیدری کے ایس ایچ او سب انسپکٹر عارف نے کہاتھاکہ پولیس نے پارک میںنصب سی سی ٹی وی کی فوٹیج کا جائزہ لیا جس میں ایک خاتون کو بچے کو بازوؤں میں پکڑے پارک سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا ۔ مشتبہ خاتون کے ساتھ سرخ جیکٹ پہنے ایک شخص بھی تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ پارک کے باہر سے فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور ان کا سراغ لگایا جا سکے۔

میڈیاسے بات کرتے ہوئے انس کے والدنے بتایا کہ یہ خاندان ایم پی آر کالونی، اورنگی ٹاؤن میں رہتا ہے اور جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان کا چھوٹا بھائی بچوں کو تفریح کے لیے پارک لے گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایک خاتون میرے بیٹے کو لے گئی ہے۔

ڈی ایس پی کمال نسیم کے عہدہ چھوڑ نے کا پس منظر
انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ نے 11 جنوری کو سیکیورٹی انتظامات کے دوران غفلت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر 5 ڈی ایس پیز اور 6 ایس ایچ اوز کیخلاف ایکشن لے لیا۔ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی میں 11 جنوری کے سیکیورٹی انتظامات کے دوران فرائض میں غفلت ،غیر ذمہ داری ، بدانتظامی اور عوامی مشکلات کی شکایت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے 5 ڈی ایس پیز کو عہدوں سے ہٹا کر کراچی پولیس آفس رپورٹ کرنے کے احکام جاری کیے ہیں۔ترجمان کے مطابق منگھوپیر ، ناظم آباد ، گلبہار ، جمشید کوارٹر اور عزیزآباد کے ایس ڈی پی اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع کے 6 ایس ایچ اوز کو بھی معطل کر کے انھیں سینٹرل پولیس آفس ایڈمن برانچ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔معطل کیے جانے والوں میں ایس ایچ او پیرآباد ، عزیزآباد ، گلبہار ، سولجربازار ، جمشیدکواٹرز اور رضویہ شامل ہیں۔
عہدوں سے ہٹائے جانے والے ایس ڈی پی او میں ناظم آباد ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈی ایس پی کمال نسیم، ایس ڈی پی او عزیز آباد ڈی ایس پی محمد جاوید خان، ایس ڈی پی او گلبہار سید محمد رضا ، ایس ڈی پی او منگھوپیر ڈی ایس پی مسرور احمد جتوئی جبکہ ایس ڈی پی او جمشید کوارٹر ڈسٹرکٹ ایسٹ ڈی ایس پی محمد خان سہیل خٹک شامل ہیں۔
دریں اثنا ڈی آئی جی اسٹیبلیشمنٹ سینٹرل پولیس آفس کیپٹن (ر) پرویز احمد چانڈیو نے 6 ایس ایچ اوز کی معطلی اور تبادلے کا حکمنامہ جاری کیا۔ڈسٹرکٹ سینٹرل کے 3 ایس ایچ اوز میں ایس ایچ او گلبہار انسپکٹر ہدایت الل ، ایس ایچ او عزیز آباد انسپکٹر وقار قیصر اور ایس ایچ او رضویہ سب انسپکٹر محمد ریاض کے علاوہ ایس ایچ او سولجر بازار انسپکٹر وقار عظیم ، ایس ایچ او جمشید کوارٹر امتیاز حسین زیدی ، ایس ایچ او پیر آباد انسپکٹر انیس احمد شیخ شامل ہیں۔معطل ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایڈمن برانچ سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کریں۔
واضح رہے کہ 11 جنوری کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے باغ جناح میں جلسہ کیا تھا۔جلسے میں وزیراعلیٰ کی آمد سے قبل شہرمیں مختلف مقامات پر پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔