امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کیوں کرناچاہتاہے؟کم ازکم5وجوہات

 

گرین لینڈ کا مسئلہ کیا ہے اور امریکہ اس پر قبضہ کیوں کرناچاہتاہے، یہ سوال اپنے اندر متعدد جوابات کو سموئے ہوئے ہے۔

یہ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ آرکٹک سرکل کے اوپر گرین لینڈ کا محل وقوع اسےحفاظتی حکمت عملی کا کلیدی حصہ بناتی ہے۔بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی، گلوبل وارمنگ اور بدلتی ہوئی عالمی معیشت نے گرین لینڈ کو عالمی تجارت اور سلامتی پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کا ملک معدنیات سے مالا مال جزیرے کو کنٹرول کرے جو آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کی حفاظت کرتا ہے۔گرین لینڈ کینیڈا کے شمال مشرقی ساحل پر ایسی جگہ واقع ہے، اس کا دو تہائی سے زیادہ علاقہ آرکٹک سرکل میںہے۔ اس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران براعظم شمالی امریکہ کے دفاع میں اہمیت اختیار کی جب امریکہ نے گرین لینڈ میں دفاعی صفیں قائم کی تھیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ نازی جرمنی کے ہاتھ میں نہ آئے اور شمالی بحر اوقیانوس کی اہم بحری گذرگاہ کی حفاظت کی جائے۔

 

یہ جزیرہ، جس کا 80 فی صد آرکٹک سرکل کے اوپر واقع ہے، تقریباً56 ہزا،ریادہ تراسکیمو باشندوں( Inuit)، کا گھر ہے ۔

 

گرین لینڈ کا مسئلہ سے مراد امریکہ کی وہ شدید کوششیں ہیں جن کا مقصد گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے گرین لینڈ کے حصول کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اب جارحانہ بیانات پر پہنچ چکا ہے۔ امریکہ نے اس جزیرے کو خریدنے کا خیال پیش کیا ہے،لیکن ڈنمارک اور گرین لینڈ بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ برائے فروخت نہیں۔

 

امریکی صدارتی مشیروں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ڈنمارک پر بھاری ٹیرف (Tariffs) لگائے جائیں یا گرین لینڈ کی آزادی کی حمایت کی جائے تاکہ اسے یورپ سے دور کر کے امریکہ کے زیرِ اثر لایا جا سکے۔

 

گرین لینڈ میں امریکی دلچسپی کی وجہ اس کا جغرافیہ، فوجی حکمتِ عملی اور معاشی مفادات کا مجموعہ ہے۔یہ روسی آبدوزوں کی نگرانی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ یہ قطبِ شمالی کے اوپر سے درپیش خطرات کو روکنے کے لیے میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کرنے کی بہترین جگہ ہے۔

 

یہاں موجو نایاب معدنیات جیسے لیتھیم وغیرہ۔یہ سیل فونز، کمپیوٹرز، بیٹریوں اور دیگر ہائی ٹیک گیجٹس کا کلیدی جز ہیں جن سے آنے والی دہائیوں میں دنیا کی معیشت کو تقویت ملنے کی امید ہے۔اس نے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوںکو اپنی طرف متوجہ کیا ہے کیونکہ وہ ان اہم معدنیات کی مارکیٹ پر چین کے تسلط کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

امریکہ کے لیے یہ معدنیات اس لیے بھی پرکشش ہیں کہ وہ اس کے لیے چین کا محتاج ہے۔ چین کو کئی نایاب معدنیات کی پراسیسنگ میں لگ بھگ مکمل غلبہ اور اجارہ داری حاصل ہے ۔ گذشتہ سال اس نے ان کی برآمدات پر پابندیاں لگادیں جس کے بعد امریکہ معدنیات حاصل کرنے کا نیاراستہ ڈھونڈرہاہے۔

 

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برف پگھلنے سے جہاز رانی کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ گرین لینڈ پر کنٹرول سے امریکہ ان راستوں پر حاوی ہو سکتا ہے۔2024 میںسائنس دانوں کے ایک گروپ نے خبردار کیا تھا کہ 2027 کے موسم گرما تک آرکٹک (بحیرہ قطب شمالی) کی تقریبا تمام سمندری برف پگھل سکتی ہے۔منجمد سمندری پانی جو سمندر کی سطح پر تیرتا ہے، دہائیوں تک سکڑنے اور پتلا ہونے کے بعد اس علاقے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور یہ علاقہ دنیا کے سب سے تیزی سے گرم ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔

ڈینش حکومت کا موقف ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کا ایک خودمختار حصہ ہے اور اس کی علاقائی سالمیت کے لیے کوئی بھی امریکی خطرہ نیٹو (NATO) اتحاد کو کمزور کرے گا۔اگرچہ بہت سے مقامی لوگ ڈنمارک سے آزادی چاہتے ہیں، لیکن حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ85 فی صد اکثریت امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔گرین لینڈ کی اپنی حکومت نے بھی جزیرے پر امریکی ڈیزائن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔

 

| امریکہ اس خطے میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے روس اورچین کے عزائم سے بھی پریشان ہے۔یہ دونو ں بھی وہاں قدم جمانے کی کوششوں میں ہیں۔امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ ،اگربراہِ راست امریکی نگرانی میں نہ رہا تو یہ ایک سیکیورٹی خطرہ بن جائے گا۔واشنگٹن سمجھتاہے کہ دفاع اور حملے، دونوں ہی صورتوں میں، یہ (گرین لینڈ) بطور ایک مضبوط فارورڈ فوجی اڈے کے طور پر بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اسے ہمیشہ دفاع کی پہلی سرحد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

 

چین کے لیے ایک نیا ’پولر سلک روڈ‘ نہ صرف تیز تر بلکہ ممکنہ طور پر زیادہ محفوظ تجارتی راستہ فراہم کر سکتا ہے، جو سویز نہر کے مقابلے میں بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چین اس خطے میں اپنی طاقت اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔روس اس خطے کا بہت اہم کھلاڑی ہے۔ اس کی سرزمین کا پانچواں حصہ قطب شمالی کے علاقے پر محیط ہے اور قطب شمالی کے ساحل کا نصف سے زیادہ حصہ صرف روس کی حدود میں آتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔