طبی سائنس نے تجربات سے ثابت کردیاہے کہ سخاوت ،بے لوث مدد،ہمدردی اور دوسروں کے کام آنے جیسی نیکیاں انسان کو بے پناہ جسمانی ،ذہنی اورنفسیاتی فوائد عطاکرتی ہیں۔
ایمرجنسی میڈیسن کی ڈاکٹر جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور سابقہ ہیلتھ کمشنر، ماہر طبیبہ ڈاکٹر لیانا وین کے مطابق نفسیات، نیوروسائنس اور صحت عامہ پر تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مثبت سماجی رویے، جیسے دوسروں کو وقت دینا، پیسہ دینا یا مددکرنا، فلاح و بہبود کے فوائد سے جڑے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ شواہد کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سخاوت جذباتی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر وین نے کہا:تحقیقات کے ایک وسیع مجموعے سے معلوم ہوا ہے کہ دینے اور مدد کرنے کے رویے بہتر ذہنی صحت سے جڑے ہیں، جیسے ڈپریشن اور بے چینی کی شرح میں کمی اور زندگی کے اطمینان میں اضافہ۔ محققین نے مثبت سماجی رویوں کو ہارمونزکے کم اسٹریس، کم سوزش، دل و شریانوں کی بہتر صحت اور طویل عمر سے بھی منسلک پایا ہے۔
2023 میں ایک بڑی تحقیق میں 30 مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں مثبت سماجی بھلائیاں شامل تھیں، جیسے نیکی کے اعمال، خیرات ، عطیات، رضاکارانہ خدمات اور مدد فراہم کرنے والے رویے۔نتائج سے پتاچلاکہ ان اعمال سے نفسیاتی فلاح و بہبود میں بہتری، ڈپریشن میں کمی، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور خون کی جانچ میں بہتری دیکھی گئی۔
ڈاکٹر وین وضاحت کرتی ہیں کہ دینا دماغ کے ان راستوں کو فعال کرتا ہے، جو خوشی اور سماجی تعلق سے منسلک ہیں۔ یہ اعمال ڈوپامین اور اینڈورفِن جیسی کیمیائی مادوں کے اخراج کا سبب بنتے ہیں، جو مثبت جذبات سے جڑے ہیں۔
سماجی بھلائی کے کاموں میں احسان، نقداعانت، مالی امداد اور خیرسگالی پیغامات کا اظہارتک شامل تھا۔ان کی بدولت مہلک بیماریوں میں بھی بہتری آئی۔عالمی ادارہ صحت نے بھی اس رحجان کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔
ایک اور اہم ہارمون آکسائیٹوسِن ہے، جو دباؤ کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ آکسائیٹوسِن بلڈ پریشر کم کر سکتا ہے، دباؤ کے ردعمل کو گھٹا سکتا ہے اور سماجی تعلق کا احساس بڑھا سکتا ہے۔
ابتدائی کچھ تحقیقات مشاہداتی تھیں، جس کا مطلب ہے کہ ممکن ہے صرف زیادہ صحت مند یا خوش باش لوگ ہی زیادہ دینے کی طرف مائل ہوں لیکن جدید مطالعات میں ایسے تجرباتی ڈیزائن شامل ہیں جوبذات خود اس فعل کو مضبوط سبب ثابت کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر شرکاء سے کہا گیا کہ تجرباتی طورپر نیکی یا سخاوت کے اعمال کریں، پھر ان کا موازنہ کنٹرول سرگرمیوں سے کیا گیا۔ان مطالعات میں ٹھنڈے اثرات کے ہارمونز جیسے کورٹیسول کی کمی اور مزاج و جذباتی فلاح میں بہتری دیکھی گئی۔ تجرباتی، حیاتیاتی اور آبادی کی سطح کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا قوی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ دینے کا عمل خود اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنس دان یہ کہنے میں پر اعتماد ہیں کہ جو لوگ زیادہ رضاکارانہ کام کرتے ہیں وہ لمبی زندگی جیتے ہیںاورور یہ کہ سماجی فلاح وبہبود انفرادی اور اجتماعی صحت دونوں کو وسیع پیمانے پر بہتر بنا سکتی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos