بجلی کے نئے اے ایم آئی میٹرز میں کیا خصوصیات ہیں؟

 

حکومت پانچ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) نصب کررہی ہے تاکہ بجلی کے ترسیلی و تقسیم کے نظام کو جدید بنایا جا سکے، کیونکہ اس وقت ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (ٹی اینڈ ڈی) نقصانات کا تخمینہ تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ٹی اینڈ ڈی نقصانات کل بجلی کی فراہمی کا تقریباً 18 فیصد ہیں، جن کی وجہ سے سالانہ مالی نقصان کا تخمینہ 265 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ کمزوریاں شعبے کی پائیداری کو نقصان پہنچاتی ہیں، صارفین پر بوجھ بڑھاتی ہیں اور اہم سرمایہ کاری کے لیے گنجائش محدود کرتی ہیں۔اس کے لیے وفاقی حکومت نے عالمی بینک سے بطور ٹرانزیکشن ایڈوائزر کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

بجلی کی تقسیم کو جدید بنانے، نقصانات کم کرنے، ریکوری بہتر بنانے، نظام کی کارکردگی بڑھانے اور صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پی پی آئی بی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پانچ ڈسکوز میں اے ایم آئی سسٹم کی تنصیب اور آپریشن کے لیے ایک نجی ادارےکی خدمات حاصل کرے۔ ان ڈسکوز میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ عام میٹر میں غلطی اور انسانی مداخلت کا عنصر پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو اکثرشکایات رہتی ہیں۔ اے ایم آئی میٹر لگانے سے انسانی مداخلت کا معاملہ ختم ہو جائے گا۔ میٹر شفاف ریڈنگ کرے گا جس کا ریکارڈ بجلی صارف اور کمپنی دونوں کے پاس موجود ہو گا۔ان میٹرز کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ خانی نہیں کی جا سکتی، اس صورت میں ایڈوانس میٹر خودکار نظام کے تحت بند ہو جائے گا جو ہر قسم کی بجلی چوری روکنے میں معاون ثابت ہو گا۔

ایڈوانس میٹر سے بجلی کی کھپت کے بارے میں صارفین کو آگاہی ہو گی۔ اگر میٹر میں کوئی خرابی ہو گی تو شکایت کیے بغیر متعلقہ تقسیم کار آفس کو اس کا علم ہو جائے گا۔آئیسکو حکام کے مطابق اس وقت بجلی کے بل ریڈنگ کے سات دن بعد صارفین کو موصول ہوتے ہیں، تاہم ایڈوانس میٹر کے ذریعے اسی دن بل موصول ہو جائے گا جس سےشفافیت بڑھے گی۔اے ایم آئی میٹر کے ذریعے اگر کوئی صارف اضافی بل کی شکایت کرے گا تو متعلقہ بجلی کمپنی پورا ریکارڈ دیکھ سکے گی۔ ’کمپنی کے پاس بجلی کی خریدوفروخت کا گھنٹوں کے حساب سے ڈیٹا موجود ہو گا۔ ڈیٹا موجود ہونے کی وجہ سے مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی ہو گی۔

اے ایم آئی سسٹم بجلی کے میٹروں کی مسلسل نگرانی کرکے بجلی کی چوری کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔یہ ٹیکنالوجی پاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرے گی، بلنگ کی درستگی کو بہتر بنائے گی، ریکوری کی شرح میں اضافہ کرے گی، لوڈ شیڈنگ کو کنٹرول کرے گی، اور غلط یا زائد بلنگ کے بارے میں صارفین کی شکایات کو دور کرے گی۔مزید یہ کہ، AMI سسٹم مینوئل میٹر ریڈنگ کی ضرورت کو ختم کر دے گا، جس سے بہتر کسٹمر سپورٹ، زیادہ درست پیمائش اور بہتر بلنگ ہو گی۔

ان میٹرز میں ایسے ڈیجیٹل آلات موجودہیں جو بجلی کے استعمال کاؒڈیٹا خودبخود براہ راست کمپنی کو بھیج سکتے ہیں۔روایتی میٹرریڈنگ کی ضرورت نہیں۔ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہے۔ آپ اپنے موبائل یاڈیسک ٹاپ ایپلی کشنزسے میٹر پر نگاہ رکھ سکتے ہیں۔ بجلی کے استعمال کی صورت حال ہروقت سامنے ہوتی ہے۔
نئےمیٹرز میں نیشنل گرڈ میں انفرادی سولر سسٹم سے حاصل کی گئی بجلی کا ریکارڈ بھی موجود ہوتاہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔