حالیہ سائنسی مطالعے نے خبردار کیا ہے کہ صحت کی زیادہ تر ایپلی کیشنز معتبر سائنسی شواہد پر مبنی نہیں۔ یہ صورت حال ان ایپس کی تاثیر اور استعمال کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1990اور 2017 کے درمیان ڈپریشن کی تشخیص میں تقریباً 50فیصد اضافہ ہوا۔ آج دنیا کی تقریبا 5 ًفیصد آبادی اس نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔ ویب سائٹ”میڈیکل ایکسپریس”نے کاتالونیا کی اوپن یونیورسٹی کے محققین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بڑھتے ہوئے دبائو کے ساتھ ڈیجیٹل ایپلی کیشنز ایک مددگار حل کے طور پر ابھری ہیں۔ خاص طور پر جب انہیں براہ راست نفسیاتی علاج کے ساتھ استعمال کیا جائے۔یونیورسٹی کی ڈیجیٹل ہیلتھ لیبارٹری کی ایک تحقیقی ٹیم نے ڈپریشن کے علاج کی ایپلی کیشنز کے معیار کا جائزہ لینے اور مریضوں اور ماہرین کے نکتہء نظر سے اہم ترین معیارات کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے نتائج سائنسی جریدے "BMJ Open” میں شائع ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:گوگل کے مصنوعی ذہانت سرچ انجن پرصحت سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے کاانکشاف
محققین نے تقریبا 30 عام استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف آٹھ ایپلی کیشنز کو شائع شدہ سائنسی مطالعہ جات کی حمایت حاصل ہے۔ بھاری اکثریت میں ان کی علاج معالجے کی تاثیر ثابت کرنے والے شواہد کی کمی ہے۔ مطالعے کی مرکزی محقق کارمی کاریون نے کہا کہ صحت کی ایپلی کیشنز کو بھی، ادویات کی طرح، منظور ہونے سے پہلے جانچ کے عمل سے گزرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کچھ ایپلی کیشنز کے عوامی صحت پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انہیں پیشہ ورانہ نگرانی کے بغیر استعمال کیا جائے۔ ایپلی کیشن کے بنیادی مقصد کا تعین کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ایک ہی ایپلی کیشن میں بہت زیادہ فنکشنز بھرنے کے خلاف خبردار کیا جو اسے پیچیدہ اور غیر عملی بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی کم ہی بہتر ہوتا ہے۔ نفسیاتی ڈیٹا کی حساسیت کے پیش نظر، مطالعے میں رازداری کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی گئی، کیونکہ شرکا نے صارفین کی معلومات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ خاص طور پر ان گروہوں کے لیے جو زیادہ کمزور ہیں۔ ایپس کے ڈیزائن میں صنفی فرق کو مدنظر رکھنے کی اہمیت بھی سامنے آئی کیونکہ مردوں اور عورتوں میں ڈپریشن کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ خواتین میں اداسی اور جرم کے احساس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مردوں میں ڈپریشن اکثر چڑچڑے پن یا غصے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
مطالعے میں”ڈیلفی”نام کا ایک سائنسی طریقہ کار اپنایا گیا جس میں 43شرکا بشمول مریضوں اور ذہنی صحت کے ماہرین کی رائے لی گئی تاکہ ڈپریشن کے علاج کی ایپلی کیشن کے انتخاب کے وقت اہم ترین معیارات کا تعین کیا جا سکے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ کلینیکل تاثیر، دستاویزی سائنسی تعاون اور استعمال میں آسانی کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری ترجیحات میں سرِفہرست رہی۔ شرکا نے ان ایپلی کیشنز کو ترجیح دی جو ماہرین کے ساتھ بات چیت کی اجازت دیتی ہیں، ہنگامی حالات میں رابطے کی سہولت فراہم کرتی ہیں اور ایک مکمل علاج کے منصوبے کا حصہ ہوتی ہیں۔ صارفین نے نفسیاتی علاج کی متبادل ہونے کا دعوی کرنے والی ایپس کو ترجیح نہیں دیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos