معاشی اشاریوں میں بہتری،شرح سود مزید کم ہونے کی توقع

روپیہ مضبوط ہونے، مہنگائی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث شرح سود میں مزید کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔شرح سود کو 10 اعشاریہ 5 فیصد سے کم کیا جا سکتا ہے۔

ریسرچ ادارے کے سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا، جس میں شرح سود کم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سروے میں شامل 80 فیصد شرکا کی رائے ہے کہ اسٹیٹ بینک نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو کم کرے گا۔ سروے کے مطابق 56 فیصد شرکا نے کہا کہ شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی جائے گی، 15 فیصد شرکا کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد کمی متوقع ہے۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 فیصد شرکا نے شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ 5 فیصد شرکا کی رائے ہے کہ شرح سود 25 بیسز پوائنٹس کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح 3 فیصد شرکاکے خیال میں نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس تک کم کی جا سکتی ہے۔سروے کے مطابق 49 فیصد شرکا کی رائے ہے کہ جون 2026 تک شرح سود 10 فیصد پر برقرار رہے گی ۔ 46 فیصد شرکا کا کہنا ہے کہ جون 2026 تک شرح سود 10 فیصد سے کم ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15 دسمبر کو شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔