اسلام آباد کے علاقے ملپورمیں سی ڈی اے آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ

 

وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) کی جانب سے بری امام ، ملپور سمیت دیہی علاقوں میں قدیمی رہائشی آبادیوں پر آپریشن کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

تھرڈ روڈ ملپور پر مظاہرے میں دیہی آبادی کے متاثرین اور مقامی لوگ شامل تھے۔مظاہرین کا کہناتھا کہ اسلام آباد کو کیسا ماڈریٹ سٹی بنایا جا رہا ہے جس میں پاکستان بننے سے پہلے سے رہائش پذیر مقامی لوگوں کو چھتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔شہریوں نے کہا کہ غریب محنت کشوں کی چھتیں چھین کر،جھونپڑیوں کو گرا کراشرافیہ کیلئے محلات کی تعمیر کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کی طرف سے آبادیوں کو ٹارگٹ کرکے منہدم کیا جارہاہے۔

 

متاثرین الائنس اسلام آباد کے زیرِ اہتمام احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا، جس میں مقررین نے کہا کہ اسلام آباد کے متاثرین گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل ناانصافی کا شکار ہیں، جس کی براہِ راست ذمہ داری کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے، اب مزید ظلم اور ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری، سید سبط الحسن بخاری، سابق میئر اسلام آباد پیر سیدعادل گیلانی، تنویر عباسی، راجہ عنایت، جمشید مغل، نوازش شاہ، شیراز کیانی، جمیل ہاشمی، سید آغا محمد، کاشف قریشی، آفاق نقوی اور ملک جمشید نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ حکومت اور سی ڈی اے کئی دہائیوں سے متاثرین اسلام آبادکے ساتھ دھوکہ، جبر اور ناانصافی کر رہے ہیں،1962 میں ایوارڈ ہونے کے باوجود متاثرین کو آج تک ان کے جائز حقوق فراہم نہیں کیے گئے، ہمارے آباو اجداد نے قومی دارالحکومت کی تعمیر کے لیے اپنی زمینیں دیں، مگر بدلے میں ریاست متاثرین سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی۔ 1946 میں قائداعظم محمد علی جناح نے ملپور میں قیام کے دوران اس علاقے کو مستقبل کے دارالحکومت کے طور پر دیکھا تھا، مقررین نے 2005میں ہونے والے آپریشن کو جبری قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین نے ہر دور میں جبر کے خلاف مزاحمت کی اور آج بھی پرامن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے سابق چیئرمینوں، افسران اور عملے کا مکمل احتساب کیا جائے، کیونکہ مختلف محکموں کی ملی بھگت سے تجاوزات ہوئیں، جس کا خمیازہ متاثرین کو بھگتنا پڑا۔ اگر سی ڈی اے آج بھی متاثرین کو 1960کی دہائی کی پرانی ادائیگی کو ہی حتمی سمجھتا ہے تو یہ سراسر ناانصافی ہے لہذاوہ رقم واپس لے کر متاثرین کو ان کی زمینیں واپس کی جائیں، بصورت دیگر موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادائیگیاں کر کے متاثرین کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ مقررین کا مزید کہناتھاکہ ملپور کی تقریباً 56 ہزار کنال اراضی حاصل کی گئی، بری امام اور ملپور کو ماڈل ویلیج قرار دیا گیا، تاہم شاملات کی مد میں واجبات آج تک ادا نہیں کیے گئے۔

 

احتجاجی جلسے میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ ساٹھ سال سے التوا کا شکار تمام ادائیگیاں فوری طور پر کی جائیں۔ متاثرین اسلام آباد کے ساتھ انصاف کیا جائے،ان کے مسائل طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں اور قانونی و اخلاقی حقوق ادا کریں۔ اگر سی ڈی اے نے متاثرین سے بات چیت نہ کی تو آئندہ حکومت سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رکھا جائے گا اور متاثرین اپنے فیصلے خود کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ نہ اپنی زمین دیں گے، نہ کسی قسم کی قربانی قبول کریں گے اور نہ کسی دباو کے آگے سر جھکائیں گے اور اپنی اصل جائیداد واپس لینے کا قانونی اور اخلاقی حق استعمال کریں گے۔

 

متاثرین الائنس کے رہنماوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو پورے اسلام آباد میں پھیلایا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور سی ڈی اے پر عائد ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔