کراچی کے پلازہ میں آگ 33گھنٹوں بعد 95 فی صد بجھ گئی۔اموات10

January 17, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

 ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا شاپنگ مال میں ہفتے کورات گئے لگنے والی آگ پر 33 گھنٹوں بعد95 فیصد تک قابوپالیا گیاہے۔فائر فائٹر 24 گھنٹے بعد آتش زدہ عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب  ہوئے۔ مزید4 لاشیں نکالی گئی ہیں،اموات کی تعداد10 تک پہنچ گئی ۔آتشزدگی سےمتاثرہ عمارت کے متعدد حصےزمیں بوس ہوگئے۔

حکام کے مطابق آگ پر 80 فیصد قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز پلازہ کے اندر داخل ہوئے ۔  جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا گیا ، اس دوران 2 بچوں  سمیت 4  افراد کے اعضا ملے جنہیں سول اسپتال ٹراما سینٹر  منتقل کردیاگیا۔

پلازہ کی تیسری منزل پر پھنسے شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن کیا گیا مگر کوئی نہ مل سکا۔

پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کی مشینری اور دستے امدادی کارروائی میں شریک ہیںِ، اسپیشل انجینئرنگ ٹیم بھی امدادی سرگرمی میں حصہ لینے کیلئے تیار ہے۔ پاک فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن میں بھرپورمددفراہم کی گئی۔

آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، فائر فائٹر سمیت10 افراد جاں بحق اورکم ازکم 55 افراد لاپتا ہیں،22 افراد زخمی ہیں جن میں سے 18 کی حالت نازک ہے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق 7 گھنٹوں بعد 40 فیصد آگ پر قابو پایا گیا تھا،انہوں نے بتایا کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ، دھماکا گیس لیکج  سے ہوا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت میں آتشزدگی کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے اموات ہوئیں اوردھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوئی، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پاکستان رینجرز نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔ ہنگامی ٹیمیں صورتحال پر قابو پانے، متاثرہ افراد کی مدد کرنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سائٹ پر فعال ہوگئیں۔ گورنر سندھ کی ہدایت پر نیوی کا ایک اسنارکل اور دو فائر ٹینڈربھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی  تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔ گراؤنڈفلورکی تمام دکانیں جل گئیں، فائر فائٹرز کو عمارت میں تپش کے باعث اندر جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور  دو جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں کاشف ولد یونس عمر 40 سال، فراز ولد ابرار عمر 55 سال، محمد عامر ولد نامعلوم عمر 30 سال، فرقان ولد شوکت علی عمر 25 سال اور دیگر شامل ہیں۔

اسی طرح زخمیوں میں  حسیب ولد وسیم عمر 25 سال، وسیم ولد سلیم عمر 20 سال، دانیال ولد سراج عمر 20 سال، صادق ولد نامعلوم عمر 35 سال، حمزہ ولد محمد علی عمر 22 سال، رحیم ولد گل محمد عمر 25 سال، فہد ولد محمد ایوب عمر 20 سال، جواد ولد جاوید عمر 18 سال، ایان ولد نامعلوم عمر 25 سال، عبداللہ ولد ظہیر عمر 20 سال، عثمان ولد اصغر علی عمر 20 سال، فہد ولد حنیف عمر 47 سال، زین ولد عبداللہ عمر 23 سال، نادر ولد نامعلوم عمر 50 سال اور دیگر شامل ہیں۔

آگ  کےشدت اختیار کرنے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کرلی۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔

 ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ،موقع پر 20 سے زائد فائر بریگیڈ ٹرک، واٹر باؤزر اور اسنارکلز کے ذریعے آفینسو اور ڈیفینسو فائر فائٹنگ آپریشن ہوا، کولنگ اور فائر بریکنگ اسٹریٹجی اپنائی جارہی ہے۔ چیف فائر افسرکے مطابق  آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے تھے ۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے،  آگ شاپنگ پلازہ کے میز نائن فلور پر لگی، آگ نے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کی دکانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا، شاپنگ پلازہ گراؤنڈ ، میز نائن پلس دو فلور پر مشتمل ہے۔

آتشزدگی کا واقعہ گل پلازہ میں پیش آیاہے۔ یہ پلازہ ایم اے جناح روڈ پرہے۔حکام فائر بریگیڈکے مطابق ،آگ پلانے کے میزنائن فلورپر لگی۔

آتشزدگی کے حوالے سے سامنے آنے والی وڈیوزمیں آگ بھڑکنے کے خوف ناک مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔شعلوں کے درمیان دھویں کے گہرے بادل نکلتے نظر آئے۔

آگ بھڑکنے کے بعد ٹریفک کو تبت چوک سے جوبلی کی طرف اور انکل سریا چوک سے ٹینکر چورنگی اور گارڈن چوک کی طرف منتقل کردیا گیا ۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ شہریوں کیلئے محفوظ راستے کیلئے متبادل ٹریفک روٹس بنائے جائیں، ایس ایس پی سٹی آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگائیں۔

ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم بمعہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئیں۔

ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کرلی  اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن  کی طرف سے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا گیا۔

ترجمان واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی پر مکمل قابو پانے تک واٹر ٹینکرز کی فراہمی جاری رہے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری ہے۔