فائل فوٹو
فائل فوٹو

دلخراش واقعہ پر ابھی تک وزیراعظم نے رابطہ نہیں کیا، مراد علی شاہ کا شکوہ

ایم اے جناح روڈ پر آتشزدگی کی شکار عمارت گل پلازا کے دورہ کے موقع پر  مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گل پلازہ آتشزدگی کا واقعہ افسوسناک ہے، آتشزدگی کےواقعہ میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

اُنہوں نے کہا کہ واقعہ میں ایک فائر فائٹر اور 5 شہری جاں بحق ہوئے، ابتدائی معلومات کے مطابق شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی، پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں تھیں، 58 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے، وزیراعظم نے ابھی تک مجھ سے رابطہ نہیں کیا، افسوس! کچھ لوگ سانحہ پر سیاست کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ  نے کہا کہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور 3 منزلہ عمارت تھی، آگ تیزی سے پھیلی ہے، تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ کریں گے، جس کی جان گئی ہے اس کا کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ انتشار پھیلانے والوں پردھیان نہیں دیتا، متاثرین کوریلیف دیں گے، کوشش ہوگی شفاف طریقے سے لوگوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پوری کوشش ہے  جو  لاپتا ہیں وہ جلد مل جائیں، افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اس سانحے پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 20 افراد اسپتال پہنچے تھے، جنہیں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، میں کراچی سے باہر تھا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ  کوشش ہوگی شفاف طریقے سے لوگوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے، متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، بغیر کسی اسٹڈی کے کئی منزلہ عمارت کی اجازت دی گئی، جب کچھ کیا جائے تو بلڈرز کہتے ہیں نا انصافی ہو رہی ہے، کسی سازش کا پتا ہوتا تو اس پر ضرور بات کرتا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  نے گل پلازا میں آگ لگنےکی تحقیقات کا حکم دے دیا، کمرشل عمارتوں کے فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا بھی حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔