شہیدفائرفائٹرکو ملک بھرکا خراج تحسین ۔ سول ایوارڈ کے لیے نامزدگی کی صدارتی سفارش

 

کراچی کے تجارتی مرکزمیں آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران شہید نوجوان کا نام فرقان علی ہے۔ وہ ناظم آباد فائراسٹیشن کا اہل کارتھا۔ فرقان لاپتہ لوگوں کی تلاش میں عمارت کے اندر داخل ہورہاتھاکہ عمارت کی چھت سے جنریٹراور ملبہ آگرا جس کے باعث وہ موقع پرہی دم توڑگیا۔

گل پلازہ میں شہید فائرفائٹر کو سوشل میڈیاپر خراج تحسین پیش کیا جارہاہے۔ صارفین اپنے تبصروں میں انہیں حقیقی ہیروقراردے رہے ہیں۔صدرمملکت نے شہید فائر فائٹر کو سول ایوارڈکے لیے نامزدکرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں انہوں نے شہید فائرفائٹرکی شجاعت کوسراہا۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے لوگ ان کے لیے ستائش کا اظہارکررہے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ریسکیو آپریشن کے دوران فائر فائٹر فرقان علی کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا۔وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ نے ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ فرقان علی نے دوسروں کو بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ متوفی فرقان علی کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے فرقان علی کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کردی گئی۔اس موقع پرشہید کے ساتھیوں، اہلکاروں اور شہریوں نے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہارکیااور انہیں ایک سچا ہیرو قراردیاگیاجس نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی۔نمازجناہ میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے بھی شرکت کی، اس موقع پرعلی خورشیدی نے فرقان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

فرقان علی ایک بچے کے والد تھے جو4 ماہ کا ہے،ان کی شادی ڈیڑھ سال قبل ہوئی تھی۔سندھ ایمرجینسی ریسیکیو سروس کے مطابق شہید فائرفائٹرکی عمر25 برس تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔