سانحہ کراچی میں اموات 21۔ لاپتہ افراد کی تعداد 73 ہوگئی۔ لاشیں ناقابل شناخت
کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگی آگ بجھنے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران مزید لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، اب تک دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔۔کئی خواتین سمیت73 افرادلاپتہ ہیں۔
ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پلازہ میں اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
ریسکیو عملہ عمارت کے اندر نے انسانی اعضا نکال رہے ہیں ۔ترجمان ایدھی کے مطابق ایک لاش مکمل اور باقی اعضاء کی صورت میں ہی نکالے گئے ہیں، تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع پلازہ میں ہفتے کی رات 10 بجے کے قریب آگ لگی، جو گراؤنڈ فلور سے شروع ہو کر تیزی سے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آگ اور دھوئیں سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل شروع کیا اور اندرونی سرچ آپریشن کے دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا سول اسپتال منتقل کیے گئے۔
پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور 20 سے زائد افراد کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ تیسری منزل پر ممکنہ طور پر ایک شخص پھنسنے کے خدشے پر سرچ کی گئی، مگر کوئی زندہ شخص نہیں ملا۔ عمارت کی پرانی حالت اور آگ کی شدت کے سبب پلرز کمزور ہو گئے ہیں اور دراڑیں پڑ چکی ہیں، جس سے عمارت گرنے کا خطرہ ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور تمام دستیاب وسائل کو امدادی کارروائیوں میں بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔ صدر نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا کہا اور زخمیوں کی نگہداشت اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے فوری اقدامات کی ہدایت دی۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ 70 سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور نقصان کے ازالے تک وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
سندھ حکومت کی ہیلپ ڈیسک کے مطابق کل 70 افراد کے لاپتا ہونے کا اندراج ہوا تھا آج مزید 3 افراد کے نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
سندھ حکومت کی ہیلپ ڈیسک کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دوبارہ پلازہ کا دورہ کر کے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 65 افراد لاپتہ ہیں اور رش کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا کہ آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا اور آج یوم سوگ کے طور پر مارکیٹیں بند رہیں گی تاکہ دکاندار اپنے پیاروں اور متاثرہ تاجروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔