کراچی: گل پلازہ میں لگی آگ کو 34 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد مکمل طور پر بجھا دیا گیا، جبکہ سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 لاشیں نکالی گئی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع پلازہ میں ہفتے کی رات 10 بجے کے قریب آگ لگی، جو گراؤنڈ فلور سے شروع ہو کر تیزی سے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آگ اور دھوئیں سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل شروع کیا اور اندرونی سرچ آپریشن کے دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا سول اسپتال منتقل کیے گئے۔
پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور 20 سے زائد افراد کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ تیسری منزل پر ممکنہ طور پر ایک شخص پھنسنے کے خدشے پر سرچ کی گئی، مگر کوئی زندہ شخص نہیں ملا۔ عمارت کی پرانی حالت اور آگ کی شدت کے سبب پلرز کمزور ہو گئے ہیں اور دراڑیں پڑ چکی ہیں، جس سے عمارت گرنے کا خطرہ ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور تمام دستیاب وسائل کو امدادی کارروائیوں میں بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔ صدر نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا کہا اور زخمیوں کی نگہداشت اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے فوری اقدامات کی ہدایت دی۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ 70 سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور نقصان کے ازالے تک وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دوبارہ پلازہ کا دورہ کر کے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 65 افراد لاپتہ ہیں اور رش کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا کہ آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا اور آج یوم سوگ کے طور پر مارکیٹیں بند رہیں گی تاکہ دکاندار اپنے پیاروں اور متاثرہ تاجروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos