فوٹو امت
فوٹو امت

گل پلازہ کا کمپلیشن پلان اور تعمیراتی تفصیلات ،قوانین کی دھجیاں کیسے اڑائیں گئیں ؟

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ  گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی۔1998 میں پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا، 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے مالک نے نقشے کے برخلاف 1200 دکانیں تعمیر کیں ،نقشےکے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی، 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں۔

ایس بی سی اے کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا۔

ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ نقشےکے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت 3 منزلوں کی اجازت تھی، 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نقشےکے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی،179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں، راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔