زلزلے سے ہنزہ میں تباہی کی تفصیلات سامنے آگئیں،1ہلاکت کی اطلاع،سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے

 

گذشتہ روز 5 اعشاریہ 8 شدت کے زلزلے سے ہنزہ میں تباہی کی تفصیلات سامنے آگئیں۔کم ازکم ایک ہلاکت اور 2بچوں سمیت 3 افرادزخمی ہونے کی اطلاع ہے۔بڑے پیمانے پر گھروں کو نقصان پہنچاہے ۔ زیر تعمیر بجلی گھر کی نہر اور پائپ لائن تباہ ہوگئی ،2دیہات میں کوئی ایک بھی گھر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے علاوہ تمام مویشی خانے تباہ ہو چکے ہیں۔ متاثرین نے چپورسن کو آفت زدہ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ایک بیان میں، گلگت بلتستان حکومت کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ زلزلے کے جھٹکوں نے بنیادی طور پر وادی ہنزہ کو نقصان پہنچایا۔بیان میں کہا گیا کہ زلزلے کے جھٹکے، جو شمال مغرب کے کئی اضلاع میں بھی محسوس کیے گئے، ہنزہ اور قریبی قصبوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنے، جس سے کئی سڑکیں بند ہو گئیں۔بیان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں تاحال جانی و مالی نقصانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔

مقامی میڈیاذرائع نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے بتایاہے کہ زیادہ تر اضلاع نقصان سے بچ گئے، غذر کی وادی اشکومان اور بالائی ہنزہ کی وادی چپورسن سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔اشکومان میں، بڈسوات کے علاقے کے قریب زلزلے کے جھٹکے سے ایک بڑا پتھر اکھڑ گیا جس سے موٹرسائیکل سوار دو افراد ٹکرا گئے۔ بلہنز کا رہائشی 60 سالہ خوش بیگ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ، 35 سالہ افضل خان شدید زخمی ہو گیا۔ گاہکوچ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے اسے ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔دیگرزخمیوں میں 2بچے شامل ہیں۔دو بہن بھائیوں کو سروں پر چوٹیں آئی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اہل علاقہ نے انہیں کاندھوں پر اٹھا کر سوست پہنچایا، جہاں سے انہیں آغا خان ہیلتھ سینٹر میں طبی امداد کے بعد گلگت منتقل کر دیا گیا۔

ہنزہ میں مٹی کے تودے گرنے سے وادی چپورسن جانے والی مرکزی سڑک بند ہوگئی جس سے کئی دیہات منقطع ہوگئے۔ حکام نے نگر اور خنجراب کے درمیان شاہراہ قراقرم کے ساتھ مختلف مقامات پر عارضی رکاوٹوں کی بھی اطلاع دی جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔

اخبار’’ پامیر ٹائمز‘‘ کے مطابق،چپورسن کے رہائشیوں نے زلزلے کے خوف ناک مناظربیان کرتے ہوئے بتایاکہ پہاڑوں سے گرنے والی چٹانوں اور گرد و غبار کے بادلوں نے لوگوں کو منجمد درجہ حرارت میں گھروں سے باہر بھاگنے پر مجبور کیا۔ زودخون اور شٹمرگ گاؤں سے شدید نقصان کی اطلاع ہے، جہاں بڑی تعداد میں مکانات ناقابل رہائش ہو گئے۔سخت سردی میںبہت سے لوگ خاص طور پر بزرگ شہری، خواتین اور بچے اب خیموں اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

شیرسبز، ریشیت اور قریبی بستیوں سے بھی نقصان کی اطلاع ملی۔ابتدائی مقامی اندازوں کے مطابق وادی چیپورسن میں 300 سے زائد مکانات، مویشیوں کے شیڈوں، گاڑیوں اور دیگر نجی املاک کو نقصان پہنچا۔ وادی روڈ کے کچھ حصے بھی بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ یشکوک کے علاقے میں زیر تعمیر پاور ہاؤس چینل اور پانی کی پائپ لائنوں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاع ہے۔

جی بی ڈی ایم اے ہنزہ نے کہا کہ چپورسن ویلی میں دو بچے زخمی ہوئے۔ علاقے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں مزید چیک اپ کے لیے گلگت منتقل کر دیا گیا۔ مقامی کارکن حیدر بدخسانی نے کہا کہ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وادی چپورسن کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے۔ نہوں نے کہا کہ وادی میں پچھلے کئی مہینوں کے دوران بار بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر خوف پیدا ہوا ہے، لیکن یہ زلزلہ سب سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن تھا۔انہوں نے فوری طور پر روڈ کلیئرنس، بہتر طبی سہولیات، منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے زیرو درجہ حرارت میں خیموں کے اندر حرارت کے انتظامات، اور زیادہ خطرے والے علاقوں سے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سیلولر کمیونیکیشن سروسز کی بحالی اور توسیع پر بھی زور دیا،کیوں کہ موبائل سگنل فی الحال صرف ریشیت اور شیرسبز میں دستیاب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چپورسن کمیونٹی نے چین کی سنکیانگ حکومت سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے تیار شدہ مکانات اور کوئلہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ چینی حکام نے حکومت پاکستان سے باضابطہ درخواست مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ہنزہ پہلے ہی ہوم سیکرٹری کو خط لکھ چکے ہیں، جنہوں نے عندیہ دیا کہ ایسی درخواستوں پر وزارت خارجہ کے ذریعے کارروائی ہوسکتی ہے۔ کمیونٹی نے وفاقی اور گلگت بلتستان حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی اوربحالی کے عمل کو تیز کریں تاکہ موسم خراب ہونے سے پہلے 600 کے قریب تیار شدہ مکانات کا بندوبست کیا جا سکے۔

ہنزہ میں قدرتی آفات کے ادارے نے تصدیق کی کہ زلزلے نے وادی چپورسن کو شدید متاثر کیا،وسیع نقصان پہنچا،کئی مکانات اور مویشیوں کے شیڈ منہدم ہوئے۔


سوست اور پاسو سے سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس)ڈیپارٹمنٹ کی مشینری کو چپورسن ویلی میں فوری طور پر روڈ کلیئرنس کے لیے متحرک کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ایک بلیڈ ٹریکٹر پہلے ہی متاثرہ جگہوں پر پہنچ چکا ہے، ایک وہیل ڈوزر بھیجا گیا ہے اور بھاری ملبہ ہٹانے کے لیے راستے میں ہے۔ گوجال سے ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں اور زخمی بچوں کو نکالنے اور مقامی کمیونٹی کی مدد کرنے میں مدد کی۔

طبی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے، ایک ایمبولینس کو آر ایچ سی سوست میں اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے، دوسری ایمبولینس چپورسن میں کھڑی ہے۔ حکام نے کہا کہ وادی چیپورسن تک سڑک کی رسائی مکمل طور پر بحال ہونے کے بعد نقصان کا تفصیلی تخمینہ اور امدادی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔

ڈپٹی کمشنر ہنزہ، ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے ساتھ دن بھر قریبی کوآرڈینیشن میں رہے، بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھی اور فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ محکموں کو آفٹر شاکس یا مزید ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیاکے ذریعے ،مقامی ذرائع نے حکام اور این جی اوزسے مدد کی درخواست کی ہے۔ان کا کہناہے کہ متاثرہ خاندانوں کو پناہ گاہیں، گرم کپڑے اور ضروری امداد فراہم کریں۔گلگت کے ایک اور جریدے نے بتایاہے کہ متاثرہ افراد حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

ایک اور ذریعے کا کہناہے کہ وادی ہنزہ کے سرحدی علاقے چپورسن میں پیر کی دوپہر شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ زلزلے کا مرکز یشکوک کا علاقہ تھا، جس کے باعث قریبی دیہات زودخون اور ستمرگ میں شدید مالی نقصان ہوا ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک کلومیٹر سے زائد طویل رابطہ سڑک تباہ ہو گئی جس نے متاثرہ علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا ہے اور امدادی کارروائیوں میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں کے گیراج منہدم ہو چکے ہیں اور جماعت خانوں (عبادت گاہوں) کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

سوشل میڈیاسے ملنے والی ایک اور اطلاع میں کہا گیاہے کہ زلزلے کے بعد علاقے میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں زیرِ تعمیر بجلی گھر کی نہر اور پائپ لائن کی مکمل تباہی شامل ہے۔ اس کے علاوہ فون سگنلز (ایس کام) میں بھی شدید خلل پیدا ہو گیا ہے جس سے رابطہ کاری مشکل ہو گئی ہے۔ علاقے میں اب بھی زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور دوبارہ گھروں میں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب متاثرہ خاندانوں کو منفی 20 سے منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سڑکیں بند ہونے کے باعث خوراک، ادویات اور خیموں کی شدید کمی ہے اور متاثرہ افراد بشمول خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے کھلے آسمان تلے یا عارضی خیموں میں گزارا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ مال مویشی بھی شدید سردی میں بے یار و مددگار پڑے ہیں جس سے بڑے انسانی اور معاشی المیے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔