نگراں وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ نے زلزلے سے نقصانات کے پیشِ نظر گلگت ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GDMA) اور گلگت بلتستان کے تمام ضلعی انتظامیہ کو ایمرجنسی بنیادوں پر فوری اقدامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔نگراں وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فوری اور شفاف جائزہ لیا جائے، جلد از جلد رابطہ سڑکوں کو بحال کیا جائے، عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو، ریلیف اور طبی سہولیات ہمہ وقت دستیاب رکھی جائیں۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی بھی ہدایت کی۔
ساجد علی بیگ نے واضح کیا کہ حکومت گلگت بلتستان مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
ادھر،عوامی ورکرز پارٹی نے بالائی ہنزہ کی وادی چپورسن کے رہائشیوں کو زلزلے کے بعد کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جہاں سخت سردی میں متاثرہ آبادیاں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ایک بیان میں، پارٹی کے سینئر رہنما بابا جان نے چپورسن ویلی سڑک کی فوری بحالی پر زور دیا تاکہ محفوظ نقل و حرکت اور ضروری خدمات تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے متاثرین کے بروقت علاج کی فراہمی کے لیے خصوصی طبی ٹیموں کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا۔
صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے، بابا جان نے ان خاندانوں کے لیے جن کے مکانات زلزلے سے تباہ ہوئے ہیں، موسم سرما میں ہنگامی پناہ گاہوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امدادی سامان لے جانے والا ایک کنٹینر، جو پہلے سوسٹ کسٹمز میں ضبط کیا گیا تھا، بغیر کسی تاخیر کے چھوڑا جائے اور متاثرہ چپورسن کمیونٹی کے حوالے کیا جائے۔اے ڈبلیو پی رہنما نے متنبہ کیا کہ امداد اور بحالی میں مسلسل تاخیر اونچائی والی وادی میں انسانی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے، انہوںحکام پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی جانوں اور عزت کے تحفظ کے لیے فوری اور ذمہ داری سے کام کریں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos